5

ایران جنگ میں ساتھ نہ دینے پر ٹرمپ کا جنوبی کوریا کے ساتھ فوجی مشقیں روکنے کا حکم

واشنگٹن (ایچ آراین ڈبلیو)، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کا ساتھ نہ دینے پر جنوبی کوریا کے ساتھ ہونے والی سالانہ فوجی مشقیں روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ”اولچی فریڈم شیلڈ“ کے نام سے ہونے والی سالانہ فوجی مشقیں 17 سے 27 اگست تک جاری رہنے والی تھیں، جن میں جنوبی کوریا کے تقریباً 18 ہزار فوجی اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔

مشقوں کا مقصد دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت، رابطہ کاری اور ممکنہ سیکیورٹی خطرات سے نمٹنے کی تیاری کو بہتر بنانا تھا۔

رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ فوجی مشقیں روکنے کا فیصلہ ایران کے ساتھ حالیہ جنگ اور جنوبی کوریا کے کردار سے متعلق امریکی مؤقف کے تناظر میں کیا گیا، تاہم اس حوالے سے مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

جنوبی کوریا اور امریکا کے درمیان مشترکہ فوجی مشقیں خطے میں دفاعی تعاون کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہیں، اس لیے مشقوں کی معطلی سے دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔

امن اور انسانی حقوق کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق کسی بھی خطے میں فوجی کشیدگی اور جنگ کے اثرات بالآخر عام شہریوں کی زندگیوں، معیشت اور بنیادی انسانی حقوق کو متاثر کرسکتے ہیں۔ علاقائی تنازعات میں مذاکرات، سفارتی رابطوں اور پرامن ذرائع کو ترجیح دینا شہریوں کے تحفظ اور دیرپا امن کے لیے ضروری ہے۔

Support HRNW: انسانی حقوق، امن، شہریوں کے تحفظ، عالمی امور اور قومی و بین الاقوامی معاملات سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ فوجی مشقوں کی معطلی اور اس کی وجوہات سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔ متعلقہ امریکی یا جنوبی کوریائی حکام کی جانب سے باضابطہ وضاحت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں