**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** میر رضا قتل کیس میں مقتول کے اہلخانہ اور ان کے وکیل **جبران ناصر** نے سندھ حکومت کی جانب سے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کے قیام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے **جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT)** تشکیل دینے کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا۔
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے رکن **جسٹس عدنان الکریم میمن** نے درخواست کی چیمبر میں سماعت کی اور فریقین کو **31 اگست 2026** کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت تک جواب طلب کرلیا۔
درخواست میں سندھ حکومت کے مختلف اداروں سمیت **19 افراد اور حکام** کو فریق بنایا گیا ہے۔ درخواست میں میر رضا کا پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر **اسامہ اور ڈاکٹر سمیہ** سمیت کیس کی تحقیقات کرنے والی موجودہ ٹیم کے ارکان کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
### اہلخانہ کو جوڈیشل کمیشن کے فیصلے سے میڈیا کے ذریعے آگاہی
سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ میر رضا کے اہلخانہ کو جوڈیشل کمیشن کے قیام کا علم **میڈیا کے ذریعے** ہوا، جبکہ حکومت کی جانب سے فیصلے یا نوٹیفکیشن کی نقول اب تک متاثرہ خاندان کو فراہم نہیں کی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط ارسال کیا گیا تھا، جبکہ اہلخانہ نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے معاملے پر **وزیر داخلہ سندھ** سے بھی رابطہ کیا ہے۔
جبران ناصر کے مطابق اہلخانہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو خط لکھ کر کیس کی تحقیقات کی نگرانی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
### جے آئی ٹی کا مطالبہ کیوں؟
وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس کی موجودہ تحقیقات اب تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکیں اور اگر موجودہ کمیٹی تحقیقات میں ناکام رہتی ہے تو **دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شامل کیا جانا چاہیے**۔
انہوں نے کہا کہ پولیس کی مبینہ نااہلی کے باعث جے آئی ٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور اس میں کسی فریق کو خدشات نہیں ہونے چاہئیں۔
جبران ناصر نے کہا کہ **”شواہد کیوں ضائع ہوئے، ہمیں اس کا جواب چاہیے۔”** ان کے مطابق سلیکٹیو سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کرکے مبینہ طور پر خودکشی کا بیانیہ بنانے کی کوشش کی گئی، جبکہ اہلخانہ کے ساتھ مکمل سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شیئر نہیں کی گئی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ واقعے کے **25 روز بعد** یہ کہا جارہا ہے کہ بعض کیمرے خراب تھے، جبکہ سی سی ٹی وی میں نظر آنے والی گاڑیوں کی بھی مکمل جانچ نہیں کی گئی۔
### جوڈیشل کمیشن پر قانونی اعتراضات
جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ جوڈیشل کمیشن اپنی **فائنڈنگز** دے سکتا ہے، تاہم اس کی رپورٹ عدالت میں باقاعدہ چالان کے طور پر پیش نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ قتل کے مقدمے کی باقاعدہ فوجداری تفتیش کا متبادل جوڈیشل کمیشن نہیں ہوسکتا اور موجودہ مرحلے پر کمیشن کا قیام کیس کی تحقیقات کو متاثر کرسکتا ہے۔
ان کے مطابق **ٹی او آرز (Terms of Reference)** بھی ابھی اہلخانہ کے سامنے نہیں رکھے گئے۔
### تفتیشی افسر نے مزید وقت مانگ لیا
دوسری جانب عدالت میں پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے مجسٹریٹ کے سامنے مزید وقت طلب کیا ہے۔ وکیل کے مطابق تفتیشی افسر نے بتایا کہ **ابھی تک کسی شخص کو ملزم نامزد نہیں کیا گیا**۔
جبران ناصر نے کہا کہ نئی کمیٹی بھی تقریباً پندرہ روز گزرنے کے باوجود “کلیولیس” ہے اور اب معاملے کی مؤثر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل ناگزیر ہوچکی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اب تک تحقیقات کو مبینہ طور پر نقصان پہنچانے والے افسران کے خلاف کیا کارروائی کی گئی؟ ان کے مطابق یا تو تحقیقات میں **قابلیت کا فقدان** ہے یا پھر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ذمہ داران تحقیقات آگے بڑھانا ہی نہیں چاہتے۔
### عدالت نے 31 اگست کو جواب طلب کرلیا
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال میں جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے بجائے ایک مؤثر اور آزاد **جے آئی ٹی** قائم کی جائے تاکہ شواہد، سی سی ٹی وی فوٹیج، طبی رپورٹس اور دیگر اہم پہلوؤں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہوسکیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے **31 اگست** تک جواب طلب کرلیا ہے۔ معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پر ہوگی۔
### انسانی حقوق کا پہلو
میر رضا کیس میں بنیادی سوال **حقِ زندگی، مؤثر تحقیقات اور انصاف تک رسائی** سے متعلق ہے۔ HRNW کے مطابق کسی شہری کی مشتبہ موت یا قتل کے معاملے میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شواہد کو محفوظ رکھا جائے، تحقیقات شفاف اور غیر جانب دار ہوں اور متاثرہ خاندان کو بروقت معلومات فراہم کی جائیں۔
ساتھ ہی، کسی بھی شخص کو حتمی تحقیقات اور عدالتی فیصلے سے قبل ملزم قرار دینا مناسب نہیں۔ مؤثر تحقیقات کا مقصد اصل حقائق سامنے لانا اور ذمہ داروں کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا ہونا چاہیے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، انصاف، شفاف تحقیقات، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر سندھ ہائی کورٹ میں پیش کیے گئے دلائل، درخواست گزار کے وکیل کے مؤقف اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ تحقیقات سے متعلق تمام الزامات اور دعوے **عدالتی طور پر حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئے**۔ کسی بھی فرد یا ادارے کو جرم یا غفلت کا ذمہ دار قرار دینے کا حتمی اختیار متعلقہ قانونی اور عدالتی فورم کو حاصل ہے۔


