**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** معروف قانون دان **علی احمد کرد** نے ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات اور عوام کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان میں **11 کروڑ سے زائد افراد روٹی کے لیے مشکلات کا شکار ہیں**۔
علی احمد کرد نے کراچی کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے شہر میں ایسے بچے بھی دیکھے ہیں جو **ننگے پاؤں گھومتے ہیں**۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کے لیے سب سے زیادہ آمدنی پیدا کرنے والے شہروں میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے شہریوں کی حالت قابلِ تشویش ہے۔
کرد نے سیاسی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی رکنِ پارلیمنٹ کی سیاسی حیثیت کو بعض اوقات ایک جملہ ہی نقصان پہنچا دیتا ہے۔ ان کے مطابق جب کسی پارلیمنٹرین سے یہ کہا جائے کہ وہ **”فارم 47 کی پیداوار”** ہے تو اس کی سیاسی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
انہوں نے پاکستان بار کونسل کے ارکان کی موجودہ حیثیت پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ **پاکستان بار کونسل کے اراکین کو وہ عزت اور وقار حاصل نہیں رہا جو ماضی میں ہوا کرتا تھا۔**
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق غربت، بھوک اور بچوں کا بنیادی ضروریات سے محروم ہونا **حقِ زندگی، خوراک، تعلیم اور انسانی وقار** سے براہِ راست جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ریاست اور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ معاشی طور پر کمزور شہریوں، خصوصاً بچوں، کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، عوامی مسائل، انصاف، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر علی احمد کرد کے بیان اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ بیان میں شامل اعداد و شمار اور سیاسی تبصرے متعلقہ مقرر کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں؛ HRNW ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق کا دعویٰ نہیں کرتا۔


