**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں **دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع** کرتے ہوئے کھلی فضا میں ڈرون اڑانے پر عائد پابندی مزید 30 روز کے لیے بڑھا دی ہے۔
محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق سکیورٹی خدشات کے پیش نظر آؤٹ ڈور ڈرون استعمال کرنے پر پابندی برقرار رہے گی، جبکہ صوبے بھر میں انتظامیہ اور پولیس کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکومت کے مطابق ہالز اور مارکیز کے اندر ہونے والی تقریبات میں **چھوٹے ڈرونز کے محدود استعمال** کی اجازت ہوگی، تاہم ان کے محفوظ استعمال کی مکمل ذمہ داری تقریب کے منتظمین پر عائد ہوگی۔
### مخصوص مقاصد کے لیے اجازت
محکمہ داخلہ نے ڈرون کے محفوظ استعمال کی تحریری اجازت دینے کے لیے ضلعی سطح پر **”سیف ڈرون یوزیج کمیٹی”** تشکیل دے دی ہے۔
زرعی، آبپاشی اور تحقیقی مقاصد کے لیے ڈرون استعمال کرنے کے خواہشمند افراد یا ادارے متعلقہ ضلعی کمیٹی سے تحریری اجازت حاصل کرسکیں گے۔ کمیٹی کی اجازت کے بعد ایسے استعمال کو پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا جائے گا۔
انٹیلیجنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی پابندی سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے مطابق عوامی تحفظ، امن و امان کا قیام اور شہریوں و املاک کی حفاظت حکومت پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔
سیکرٹری داخلہ پنجاب نے ڈرون کے استعمال پر پابندی **ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 144(6)** کے تحت عائد کی ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق عوامی تحفظ اور امن و امان کا قیام ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے، تاہم حفاظتی پابندیوں کے نفاذ میں **قانونی جواز، شفافیت، متناسب اقدامات اور شہریوں کے جائز حقوق** کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ مخصوص قانونی اور تحقیقی مقاصد کے لیے اجازت کا طریقہ کار شہریوں اور اداروں کو ضابطے کے اندر رہتے ہوئے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ڈرون کے استعمال سے متعلق اجازت، استثنیٰ اور پابندیوں کا اطلاق متعلقہ سرکاری احکامات اور ضلعی انتظامیہ کی ہدایات کے مطابق ہوگا۔


