**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** سندھ ہائی کورٹ نے اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں گرفتار ملزم **فیصل ظفیر** کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
سماعت کے دوران مدعی کے وکیل **حسنین چوہان ایڈووکیٹ** نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف اغوا برائے تاوان کے الزام میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔
وکیل کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر **دسمبر 2025 میں سفیان نامی شہری کو لیاقت آباد سے اغوا** کیا اور اس کی رہائی کے بدلے **4 کروڑ روپے تاوان** طلب کیا۔
عدالت کو بتایا گیا کہ مغوی کی رہائی کے لیے **45 لاکھ روپے تاوان** ادا کیا گیا، جس کے بعد سفیان کو رہا کیا گیا۔ وکیل کے مطابق ادا کیے گئے تاوان کی رقم میں سے **ڈھائی لاکھ روپے ملزم کے قبضے سے برآمد** ہوئے۔
مدعی کے وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ رہائی کے بعد مغوی سفیان نے اپنے ہی **پڑوسی کو مبینہ اغوا کار کے طور پر شناخت** کیا۔
واضح رہے کہ ٹرائل کورٹ بھی ملزم فیصل ظفیر کی ضمانت کی درخواست پہلے ہی مسترد کرچکی تھی۔
سندھ ہائی کورٹ نے دلائل سننے کے بعد ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق اغوا برائے تاوان شہریوں کے **حقِ زندگی، آزادی اور تحفظ** کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ تاہم فوجداری مقدمات میں الزام کی سنگینی کے باوجود ہر ملزم کو **منصفانہ ٹرائل، قانونی نمائندگی اور قانونی طریقہ کار** کے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، شہریوں کے تحفظ، قانون کی حکمرانی اور آزاد و ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر عدالت میں پیش کیے گئے دلائل اور دستیاب عدالتی معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ملزم کے خلاف عائد الزامات ابھی **حتمی طور پر ثابت نہیں ہوئے**۔ ملزم کو جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے اور حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ کرے گی۔


