**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** سرحد یونیورسٹی کے اسلام آباد کیمپس میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں ملوث فوجی افسر کے خلاف **انکوائری اور تادیبی کارروائی شروع** کردی گئی ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق 24 اگست 2026 کو سرحد یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس میں ملوث فوجی افسر کو فوج کے ضابطۂ اخلاق کے تحت تحویل میں لے لیا گیا ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاک فوج **خود احتسابی کے عمل پر یقین رکھتی ہے** اور فوج میں خود احتسابی کا ایک سخت اور شفاف نظام موجود ہے، جو روایت کے مطابق بلاامتیاز عمل میں لایا جاتا ہے۔
بیان کے مطابق پاک فوج کا خود احتسابی کا نظام محض الزامات کے بجائے **ٹھوس شواہد اور ثبوتوں** کی بنیاد پر کارروائی کرتا ہے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ جب بھی فوج میں نافذ قوانین یا ضابطوں کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو خود احتسابی کا نظام بلا تفریق اور تیزی سے حرکت میں آتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پاک فوج کے نظم و ضبط اور خود احتسابی کے نظام کے تحت **قصوروار پائے جانے والے تمام افراد کو قانونی ضابطے کا سامنا کرنا ہوگا**۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق تعلیمی ادارے طلبہ، اساتذہ اور عملے کے لیے محفوظ مقامات ہونے چاہئیں۔ فائرنگ جیسے واقعات نہ صرف انسانی جان کے تحفظ بلکہ **حقِ زندگی، تعلیمی ماحول کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی** سے متعلق سنگین سوالات اٹھاتے ہیں۔ کسی بھی ذمہ دار شخص کے خلاف شفاف، غیر جانب دار اور شواہد پر مبنی کارروائی انصاف اور احتساب کے بنیادی اصولوں کا تقاضا ہے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، عوامی تحفظ اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ فائرنگ کے واقعے سے متعلق حتمی حقائق اور ذمہ داری کا تعین جاری انکوائری اور قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔ کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔


