7

میر رضا قتل کیس: سندھ حکومت کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن قائم، جسٹس عمر سیال سربراہ مقرر

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — :** نوجوان تاجر **میر رضا علی** کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے سندھ حکومت کی درخواست پر جوڈیشل کمیشن قائم کردیا گیا ہے، جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے **جسٹس عمر سیال** کو کمیشن کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

سندھ حکومت نے میر رضا کیس کی تحقیقات کے حوالے سے غیر جانب دارانہ اور شفاف تحقیقات کی ضرورت کے پیش نظر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے جوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کی تھی۔ حکومت کے مطابق کمیشن کا مقصد تحقیقات میں موجود خامیوں، دستیاب شواہد اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا ہے۔

### کمیشن کن معاملات کا جائزہ لے گا؟

دستیاب رپورٹس کے مطابق جوڈیشل کمیشن میر رضا علی کی ہلاکت سے متعلق مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے گا اور واقعے کے حقائق سامنے لانے کے لیے تحقیقات کرے گا۔ کمیشن کے دائرہ کار میں پولیس، میڈیکو لیگل حکام اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار اور تفتیشی عمل میں ممکنہ کوتاہیوں کا جائزہ بھی شامل ہے۔

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب میر رضا کے اہل خانہ پہلے ہی پولیس تفتیش کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا چکے ہیں اور سندھ حکومت سے براہِ راست تحقیقات کی نگرانی کا مطالبہ کرچکے ہیں۔ میر رضا، جو ایک نوجوان کاروباری شخصیت اور آئی بی اے گریجویٹ تھے، 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے جبکہ ان کی لاش اگلے روز کراچی کے گلستانِ جوہر کے علاقے سے ملی تھی۔ ان کے والد مسلسل مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا۔

### اہل خانہ نے جوڈیشل کمیشن مسترد کردیا، جے آئی ٹی کا مطالبہ

دوسری جانب میر رضا کے اہل خانہ نے سندھ حکومت کی جانب سے جوڈیشل کمیشن کے قیام کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے **جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT)** تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل خانہ نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے حوالے سے براہِ راست آگاہ نہیں کیا گیا اور انہیں اس کے **Terms of Reference** سے بھی مطلع نہیں کیا گیا۔ خاندان نے جوڈیشل کمیشن کے بجائے ایسے تحقیقاتی طریقہ کار کا مطالبہ کیا ہے جس کے ذریعے قتل کے شواہد، ذمہ دار افراد اور تفتیشی مراحل کی براہِ راست تحقیقات کی جاسکیں۔

میر رضا کے اہل خانہ نے آج سندھ ہائی کورٹ سے بھی رجوع کرتے ہوئے **جوڈیشل کمیشن کے خلاف اور جے آئی ٹی کی تشکیل کے لیے درخواست** دائر کردی ہے۔ درخواست مقتول کے والدین اور بہن کی جانب سے ان کے وکیل جبران ناصر کے توسط سے دائر کی گئی۔

اہل خانہ کے وکیل کا مؤقف ہے کہ کیس میں جن امور کی تفتیش درکار ہے، انہیں متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے ذریعے ہی مکمل کیا جانا چاہیے۔ خاندان نے تفتیشی عمل میں شفافیت اور مختلف اداروں کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی کے قیام پر زور دیا ہے۔

### میر رضا کیس میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ

میر رضا کی ہلاکت کا معاملہ گزشتہ کئی ہفتوں سے توجہ کا مرکز ہے۔ ایسے میں جوڈیشل کمیشن کا قیام اور دوسری جانب اہل خانہ کی جانب سے جے آئی ٹی کا مطالبہ اس کیس میں **تحقیقات کے طریقہ کار پر اختلاف** کو نمایاں کرتا ہے۔

**HRNW Human Rights Perspective:**
میر رضا کے خاندان کو اپنے پیارے کی موت کے حقائق جاننے، شفاف تحقیقات اور انصاف کا بنیادی حق حاصل ہے۔ کسی بھی تحقیقاتی نظام کی ساکھ کے لیے ضروری ہے کہ تمام دستیاب شواہد محفوظ کیے جائیں، تفتیش غیر جانب دارانہ انداز میں آگے بڑھے اور ذمہ داری کا تعین **ثبوت اور قانون** کی بنیاد پر کیا جائے۔ ساتھ ہی کسی بھی شخص کو محض الزام کی بنیاد پر مجرم قرار دینے کے بجائے قانونی عمل اور منصفانہ سماعت کے اصولوں کی پابندی ضروری ہے۔

**Support HRNW:**
انسانی حقوق، انصاف، شفاف تحقیقات، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**Disclaimer:**
یہ رپورٹ دستیاب سرکاری و میڈیا رپورٹس اور متعلقہ فریقین کے بیانات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قتل اور تفتیش سے متعلق تمام الزامات اور دعوے حتمی عدالتی فیصلے کے تابع ہیں۔ HRNW کسی فرد کو عدالت سے جرم ثابت ہونے سے قبل مجرم قرار نہیں دیتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں