**پشاور (ایچ آراین ڈبلیو)** — جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ آئین میں واضح ہے کہ قرآن و سنت کے منافی قانون نہیں بنایا جائے گا، اگر حکمران آئین پر عمل نہیں کرتے تو یہ ان کی کوتاہی ہے۔
پشاور میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ان کے اکابرین نے سیاسی جدوجہد کی تعلیمات دی ہیں اور آج بھی ان تعلیمات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی طاقت ملک اور ریاست کی ضرورت ہے اور جمعیت علمائے اسلام پاکستان کی مضبوط دفاعی قوت کی قائل ہے۔
### سیاسی جدوجہد اور آئینی بالادستی
مولانا فضل الرحمان نے سیاسی جدوجہد اور آئینی اصولوں پر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کے آئین کی پاسداری کریں۔
انہوں نے اس امر کی جانب توجہ دلائی کہ آئینی اصولوں پر عملدرآمد ریاستی نظام میں قانون کی حکمرانی اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
### جے یو آئی رہنما کا حکومتی پالیسیوں پر اعتراض
اس موقع پر جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورتحال برصغیر کی صورتحال سے مختلف نہیں اور ان کے بقول سیاسی آواز کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے افراد کو ان کے سامنے لایا جاتا ہے جو بقول ان کے کونسلر کی نشست بھی جیتنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
### انسانی حقوق اور آئینی حقوق
آئین کی بالادستی، سیاسی آزادی اور اختلافِ رائے کا حق جمہوری معاشرے کے بنیادی اصول ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور شہریوں کو پُرامن سیاسی سرگرمیوں اور اظہارِ رائے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ اختلافات کو آئینی اور جمہوری طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے اور تمام شہریوں اور سیاسی کارکنوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔
### HRNW کو سپورٹ کریں
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، آئینی بالادستی، جمہوری اقدار اور قانون کی حکمرانی سے متعلق آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے عوامی تعاون کا محتاج ہے۔
**[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)**
**Disclaimer:** یہ خبر مولانا فضل الرحمان اور عبدالغفور حیدری کی جانب سے ورکرز کنونشن میں دیے گئے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سیاسی نوعیت کے الزامات اور دعووں کی آزادانہ تصدیق اس رپورٹ میں شامل نہیں۔ متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف کی وضاحت کا حق حاصل ہے۔


