8

عالمی یومِ انسدادِ غلامی: انسانی آزادی اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا، مراد علی شاہ

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بین الاقوامی یومِ انسدادِ غلامی کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ انسانی تاریخ میں غلامی اور انسانوں کا استحصال سب سے بڑی زیادتیوں میں شامل رہا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ دن یاد دلاتا ہے کہ انسانی آزادی اور وقار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ دنیا بھر سے ہر قسم کی غلامی، جبر اور معاشی استحصال کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

### انسانی اسمگلنگ اور جبری مشقت کے خلاف جدوجہد

مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوفیائے کرام کی دھرتی ہے، جہاں ہمیشہ انسانی احترام، مساوات اور بھائی چارے کا درس دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جدید دور کی پوشیدہ غلامی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف سب کو مل کر جدوجہد کرنا ہوگی، جبکہ سندھ حکومت صوبے میں جبری مشقت کے مکمل خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق مزدوروں اور کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ ریاست کی اولین آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

### انسانی حقوق اور مساوات

مراد علی شاہ نے کہا کہ معاشرے سے رنگ، نسل اور طبقے کی بنیاد پر تفریق ختم کیے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔

غلامی، جبری مشقت، انسانی اسمگلنگ اور استحصال کے خاتمے کے لیے مؤثر قانون سازی، قوانین پر عملدرآمد اور متاثرہ افراد کے تحفظ کے ساتھ ساتھ معاشی مواقع اور انصاف تک مساوی رسائی ضروری ہے۔

ریاستی اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ کسی بھی فرد کو اس کی مرضی کے خلاف مشقت، استحصال یا انسانی اسمگلنگ کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھا جائے۔

### HRNW کو سپورٹ کریں

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، مزدوروں کے حقوق، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے عوامی تعاون کا محتاج ہے۔

آپ کی معاونت HRNW کو انسانی حقوق اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

**[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)**

**Disclaimer:** یہ خبر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سندھ حکومت کی جانب سے جبری مشقت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ سرکاری اداروں کے ریکارڈ اور آئندہ رپورٹس سے واضح ہوسکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں