2

کراچی کے دو شہری صومالی قزاقوں کی قید میں چار ماہ سے موجود

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — کراچی سے تعلق رکھنے والے حسین یوسف اور یاسر خان کو مبینہ طور پر صومالی قزاقوں کی قید میں چار ماہ مکمل ہوگئے، جبکہ ان کے اہلخانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔

حسین یوسف کے بیٹے اور بیٹی اپنے والد کی طویل جدائی کے باعث شدید غم اور پریشانی کا شکار ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق والد کی عدم موجودگی نے بچوں کی زندگی کو شدید متاثر کیا ہے اور وہ مسلسل اپنے والد کی واپسی کے منتظر ہیں۔

دوسری جانب یاسر خان کی اہلیہ نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مغویوں کی بحفاظت رہائی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔

### اہلخانہ کی حکومت سے اپیل

یاسر خان کی اہلیہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے اپیل کی ہے کہ حکومت سفارتی اور دیگر دستیاب ذرائع استعمال کرتے ہوئے دونوں پاکستانی شہریوں کی رہائی کے لیے فوری اقدامات کرے۔

اہلخانہ کا کہنا ہے کہ چار ماہ سے جاری یہ صورتحال ان کے لیے شدید ذہنی اذیت اور غیر یقینی کا باعث بن رہی ہے اور حکومت کی جانب سے مؤثر پیش رفت ان کے لیے امید کا باعث بن سکتی ہے۔

### انسانی حقوق اور شہریوں کا تحفظ

کسی بھی شہری کا طویل عرصے تک مبینہ طور پر مسلح گروہوں یا قزاقوں کی قید میں رہنا انسانی تحفظ اور بنیادی حقوق سے متعلق ایک سنگین معاملہ ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ بیرون ملک خطرات سے دوچار پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے دستیاب سفارتی، قانونی اور انسانی ذرائع بروئے کار لائے۔

متاثرہ خاندانوں کو بروقت معلومات، مناسب معاونت اور حکومتی اقدامات سے متعلق شفاف آگاہی فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

### HRNW کو سپورٹ کریں

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے عوامی تعاون کا محتاج ہے۔

آپ کی معاونت HRNW کو انسانی حقوق اور عوامی مفاد سے متعلق اہم معاملات کو ذمہ دارانہ انداز میں اجاگر کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔

**[HRNW کو سپورٹ کریں](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)**

**Disclaimer:** یہ خبر اہلخانہ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور بیان کردہ مطالبات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حسین یوسف اور یاسر خان کی موجودہ صورتحال، مقام اور صومالی قزاقوں کی قید سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ متعلقہ حکام کے سرکاری مؤقف اور مزید معلومات سامنے آنے کے بعد صورتحال واضح ہوسکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں