**کراچی (HRNW) — 24 اگست 2026:** سندھ ہائی کورٹ نے شفیق موڑ پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کے دوران پولیس اور انتظامیہ پر مبینہ حملے کے مقدمے میں گرفتار **38 ملزمان کی جانب سے دائر درخواستِ ضمانت** پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت **31 اگست 2026** تک ملتوی کردی۔
درخواست گزار ملزمان نے انسدادِ دہشت گردی عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ عدالت نے متعلقہ فریقین سے جواب طلب کرلیا ہے۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل **عامر وڑائچ** نے مؤقف اختیار کیا کہ شفیق موڑ پر انتظامیہ کی جانب سے ہوٹلز کے خلاف کارروائی کی گئی تھی۔
وکیلِ صفائی نے عدالت کو بتایا کہ **جن افراد کی جانب سے مبینہ طور پر پیسے ادا نہیں کیے جاتے، ان کے خلاف کارروائی کرکے مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں۔**
عدالت نے ریمارکس دیے کہ پہلے متعلقہ فریقین کے جوابات آنے دیے جائیں، اس کے بعد معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کے خلاف **تھانہ سمن آباد** میں مقدمات درج کیے گئے تھے، جبکہ ملزمان نے انسدادِ دہشت گردی عدالت سے ضمانت مسترد ہونے کے بعد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے مطابق تجاوزات کے خلاف کارروائی کے دوران **قانون کا یکساں اور شفاف نفاذ** ضروری ہے۔ انتظامیہ اور پولیس کو سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران تحفظ حاصل ہونا چاہیے، تاہم گرفتار افراد کو بھی **منصفانہ تفتیش، قانونی نمائندگی، شفاف عدالتی کارروائی اور ضمانت کے قانونی حق** سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، منصفانہ عدالتی عمل اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر عدالتی کارروائی اور پولیس کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ ملزمان کے خلاف عائد الزامات ابھی **عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے**۔ تمام ملزمان کو جرم ثابت ہونے تک قانوناً بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ عدالت کی جانب سے 31 اگست کو مزید کارروائی کے بعد معاملے کی قانونی حیثیت واضح ہوگی۔


