**کراچی (HRNW) — 24 اگست 2026:** نارتھ کراچی سیکٹر **11-B** میں انڈس یونیورسٹی کے قریب مکان نمبر **A-737** میں مبینہ طور پر غیر قانونی پورشن کی تعمیر جاری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جس پر متعلقہ حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
شہریوں کی جانب سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر مذکورہ تعمیرات متعلقہ اتھارٹی سے منظوری حاصل کیے بغیر جاری ہیں تو **سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)** کے متعلقہ افسران کی جانب سے تاحال کارروائی کیوں نہیں کی گئی؟
شکایت کنندگان نے **ایس بی سی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر کمال احمد** سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے مذکورہ مقام کا معائنہ کرایا جائے اور تعمیرات کی قانونی حیثیت واضح کی جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات غیر قانونی ثابت ہوں تو قانون کے مطابق **فوری کارروائی، تعمیرات کا انہدام اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی اقدامات** کیے جائیں۔
شہریوں نے **نیب، اینٹی کرپشن اور ڈپٹی کمشنر سینٹرل طٰہٰ سلیم** سے بھی معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ جانچ کا مطالبہ کیا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ آیا تعمیرات کے حوالے سے کسی قسم کی غفلت، ملی بھگت یا اثر و رسوخ استعمال کیا گیا یا نہیں۔
### انسانی حقوق کا پہلو
غیر قانونی تعمیرات نہ صرف شہری منصوبہ بندی اور تعمیراتی قوانین کا معاملہ ہیں بلکہ **شہریوں کے محفوظ رہائش، ماحول اور بنیادی سہولیات کے حق** سے بھی براہِ راست منسلک ہیں۔ HRNW کے مطابق قانون کا نفاذ بلاامتیاز ہونا چاہیے اور کسی بھی شکایت کی تحقیقات شفاف طریقے سے کی جانی چاہئیں۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی اور عوامی مسائل کی ذمہ دارانہ نشاندہی کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر شہریوں کی جانب سے سامنے آنے والی شکایت اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مذکورہ مکان پر تعمیرات کے غیر قانونی ہونے، کسی افسر کی غفلت، ملی بھگت یا پشت پناہی کے دعووں کی **آزادانہ سرکاری تصدیق ابھی باقی ہے**۔ حتمی حقائق متعلقہ حکام کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی سامنے آسکتے ہیں۔


