**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) —:** کراچی پولیس نے افسران کی **ذاتی تشہیر اور شخصی تشخص کو نمایاں کرنے والے تشہیری مواد** کے استعمال پر پابندی عائد کردی۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی **آزاد خان** کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں تمام پولیس یونٹس اور متعلقہ افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ سرکاری تشہیر میں کسی فرد کے بجائے **کراچی پولیس کے ادارہ جاتی تشخص، عوامی خدمت اور مجموعی کارکردگی** کو نمایاں کیا جائے۔
سرکلر کے مطابق کسی بھی پولیس افسر کی تصویر یا پورٹریٹ کو **بینرز، بل بورڈز، ہورڈنگز، پوسٹرز، اسٹینڈیز، بیک ڈراپس، اشتہارات یا دیگر تشہیری و پروموشنل مواد** پر استعمال نہیں کیا جائے گا۔
یہ پابندی پولیس گاڑیوں، پولیس عمارتوں کے باہر اور دیگر عوامی مقامات پر نصب تشہیری مواد کے ساتھ ساتھ **سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور دیگر میڈیا پلیٹ فارمز** پر بھی لاگو ہوگی۔
کراچی پولیس کے مطابق سرکاری تشہیر کا مقصد کسی افسر کی ذاتی تشہیر نہیں بلکہ پولیس کی **مجموعی کارکردگی، عوامی خدمات، اہم اقدامات، کامیابیوں اور عوامی آگاہی کے پیغامات** کو اجاگر کرنا ہے۔
### شہدائے پولیس کے لیے استثنا
سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ **پولیس شہداء کی تصاویر** سرکاری یادگاری تقریبات، خراجِ عقیدت، میموریلز اور دیگر مجاز مواقع پر احترام اور وقار کے ساتھ استعمال کی جاسکیں گی۔
تمام متعلقہ افسران کو احکامات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داری کا تعین کرکے متعلقہ افراد کے خلاف **قانون و ضابطے کے مطابق کارروائی** کی جائے گی۔
کراچی پولیس کے مطابق ادارے کا بنیادی مقصد کسی فرد کو نمایاں کرنا نہیں بلکہ **ادارے کی خدمت، کارکردگی اور عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانا** ہے۔
### انسانی حقوق اور عوامی اعتماد
HRNW کے مطابق سرکاری اداروں میں شخصی تشہیر کے بجائے **ادارہ جاتی شفافیت، جوابدہی اور عوامی خدمت** کو ترجیح دینا جمہوری طرزِ حکمرانی اور عوام کے اعتماد کے لیے اہم ہے۔ پولیس کی تشہیری سرگرمیوں میں شہریوں کے حقوق، عوامی خدمات اور ادارے کی جوابدہی کو نمایاں کرنا ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد مضبوط کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی، شفافیت اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر کراچی پولیس کی جانب سے جاری کردہ سرکلر اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ احکامات پر عملدرآمد اور خلاف ورزی کی صورت میں کارروائی متعلقہ پولیس حکام کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔


