**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) — 24 اگست 2026:** آئی جی سندھ **جاوید عالم اوڈھو** کی زیرِ صدارت سینٹرل پولیس آفس کراچی میں صوبے بھر کی امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی اقدامات کا اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں کراچی سمیت صوبے بھر کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، **آپریشن نجاتِ مہران، غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی، ربیع الاول کے اجتماعات، اہم تقریبات اور عوامی مجالس** کے سکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
آئی جی سندھ نے ہدایت کی کہ موجودہ صورتحال اور عوامی اجتماعات کے پیش نظر کراچی میں **غیر معمولی سکیورٹی اقدامات** کیے جائیں، جبکہ اسنیپ چیکنگ، پیٹرولنگ اور پکٹنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے اور مشکوک سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ امن و امان کو متاثر کرنے والے شرپسند عناصر کے خلاف **سخت اور بلاامتیاز کارروائی** یقینی بنائی جائے اور جرائم کے خاتمے تک پولیس افسران و اہلکار پوری مستعدی سے فرائض انجام دیں۔
انہوں نے کچے کے علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر اور ان کے ممکنہ گٹھ جوڑ پر کڑی نظر رکھنے کی بھی ہدایت کی۔
آئی جی سندھ نے واضح کیا کہ **غیر ملکی شہریوں کی سکیورٹی میں کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔** تمام افسران کو فیلڈ میں جاکر سکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لینے اور ضروری اقدامات بروقت مکمل کرنے کی ہدایت بھی کی گئی۔
### انسانی حقوق کا پہلو
HRNW کے نقطۂ نظر سے امن و امان کے مؤثر اقدامات کا بنیادی مقصد **شہریوں کے جان و مال، عزت، آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ** ہونا چاہیے۔ سکیورٹی اور جرائم کے خلاف کارروائی قانون کے دائرے میں، شفاف انداز میں اور **بلاامتیاز** ہونی چاہیے تاکہ شہریوں کے تحفظ کے ساتھ ان کے آئینی و انسانی حقوق بھی یقینی بنائے جا سکیں۔
اسنیپ چیکنگ، گرفتاریوں اور مشتبہ افراد کے خلاف کارروائی کے دوران **قانونی طریقہ کار، انسانی وقار اور شہری آزادیوں** کا احترام ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے۔
### Support HRNW
انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے والی آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **HRNW کو سپورٹ کریں۔**
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر سندھ پولیس کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ معلومات اور اجلاس میں دی گئی ہدایات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ سکیورٹی کارروائیوں سے متعلق دعوے متعلقہ حکام کی ذمہ داری ہیں۔ HRNW قانون کی حکمرانی، شفافیت، جوابدہی اور بنیادی انسانی حقوق کے احترام کو اہمیت دیتا ہے۔


