9

کراچی میں کچرے کے بڑھتے بحران سے صحت اور ماحول کو سنگین خطرات لاحق، ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) انصاف لائرز فورم کراچی کے سینیئر رہنما ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے شہر میں بڑھتے ہوئے کچرے کے بحران پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں روزانہ تقریباً 15 ہزار میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جس میں سے صرف 8 ہزار میٹرک ٹن کے قریب کچرا اٹھایا جاتا ہے جبکہ باقی کچرا سڑکوں، گلیوں، محلوں اور نالوں میں جمع رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں اس وقت 12 لاکھ ٹن سے زائد کچرا جمع ہونا انتظامی ناکامی اور صفائی کے ناقص نظام کی واضح مثال ہے۔

ایڈووکیٹ حسنین علی چوہان نے کہا کہ کچرے کے ڈھیر نہ صرف کراچی کی خوبصورتی کو متاثر کر رہے ہیں بلکہ تعفن، مچھروں، جراثیم اور مختلف بیماریوں کے پھیلاؤ کا بھی سبب بن رہے ہیں۔ نالوں میں کچرا پھینکے جانے سے نکاسی آب کا نظام بھی شدید متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں بارش کے دوران شہریوں کو اربن فلڈنگ اور دیگر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک میں کچرے کو بوجھ سمجھنے کے بجائے توانائی پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ کراچی جیسے بڑے شہر میں بھی جدید ویسٹ ٹو انرجی منصوبے شروع کیے جائیں تو روزانہ پیدا ہونے والے ہزاروں ٹن کچرے کو بجلی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ اس سے ایک طرف کچرے کا مسئلہ حل ہوگا جبکہ دوسری جانب شہر میں بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی مہنگی قیمتوں کے بحران کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

حسنین علی چوہان نے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت اور متعلقہ بلدیاتی ادارے کراچی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر جامع سالڈ ویسٹ مینجمنٹ پالیسی تشکیل دیں، کچرے کی بروقت منتقلی اور سائنسی بنیادوں پر تلفی کو یقینی بنایا جائے اور ویسٹ ٹو انرجی منصوبوں پر فوری کام شروع کیا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کراچی کے شہری ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں اربوں روپے ادا کرتے ہیں، اس کے باوجود انہیں صاف ستھرا ماحول، مؤثر صفائی اور بنیادی شہری سہولیات میسر نہیں۔ حکومت کو سیاسی بیان بازی کے بجائے عملی اقدامات کرتے ہوئے کراچی کے شہریوں کو ان کا بنیادی حق فراہم کرنا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں