**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — وزارتِ خارجہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے عمل میں عوام سے مبینہ طور پر اربوں روپے وصول کیے گئے اور مبینہ بے ضابطگیوں سے قومی خزانے اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچا۔
مذکورہ دعوے کے مطابق اس مبینہ معاملے میں دفترِ خارجہ کے بعض اہم افسران، بشمول سیکریٹری خارجہ کے دفتر سے متعلق حکام، کے کردار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
متن کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور ڈی جی آڈٹ ڈاکٹر احمد علی سروہی کو بعد ازاں سابقہ تاریخ سے معطل کر دیا گیا۔ اس اقدام پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرنے والے افسر ہی کو کارروائی کا سامنا کیوں کرنا پڑا۔
رپورٹ کے حوالے سے یہ بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر معاملہ درست ہے تو وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے اس پر کیا کارروائی کی جائے گی۔
تاہم، ان دونوں رہنماؤں کی خاموشی کو ان کی رضامندی یا سرپرستی قرار دینا اس مرحلے پر ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے۔ اس معاملے پر حکومت اور وزارتِ خارجہ کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔
### انسانی پہلو
سرکاری دستاویزات کی تصدیق جیسی بنیادی عوامی خدمت میں مالی شفافیت اور جواب دہی براہِ راست شہریوں کے حقوق سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر سرکاری اداروں میں مالی بے ضابطگیوں کے الزامات درست ثابت ہوں تو ذمہ دار افراد کے خلاف شفاف اور قانونی کارروائی ضروری ہے، جبکہ شکایت یا بے ضابطگی کی نشاندہی کرنے والے افسران کو بھی قانونی تحفظ حاصل ہونا چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ آگاہی اور رپورٹنگ کے مشن پر کام کرتا ہے۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور بیان کردہ رپورٹ کے حوالے سے مرتب کی گئی ہے۔ مبینہ 12 ارب روپے کی بے ضابطگیوں، متعلقہ افسران کے کردار اور معطلی کے اسباب سے متعلق تمام دعووں کی آزادانہ تصدیق اس متن کی بنیاد پر نہیں کی گئی۔ وزیراعظم شہباز شریف یا نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی خاموشی کو رضامندی یا سرپرستی قرار دینا بھی ایک سوال/مفروضہ ہے، ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ متعلقہ اداروں اور حکام کا باضابطہ مؤقف سامنے آنا ضروری ہے۔


