4

عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان 30 روزہ حراست میں

**لاہور — (ایچ آراین ڈبلیو)**بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو لاہور میں حراست میں لے کر 30 روز کے لیے کوٹ لکھپت جیل منتقل کردیا گیا۔

تازہ رپورٹس کے مطابق دونوں کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 (MPO) کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ لاہور کے ڈپٹی کمشنر کے دفتر کی جانب سے جاری حکم کے مطابق دونوں خواتین کو امن عامہ اور عوامی تحفظ سے متعلق خدشات کی بنیاد پر حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔

ایکسپریس اردو کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ پولیس نے علیمہ خان کی رہائش گاہ سے نورین نیازی اور عظمیٰ خان کو حراست میں لیا، جبکہ علیمہ خان کے دونوں بیٹوں شیرشاہ اور شاہ ریز کو بھی پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں ذرائع کے مطابق بچوں اور دیگر اہلخانہ کو رہا کردیا گیا، جبکہ نورین اور عظمیٰ کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب ڈان کی رپورٹ کے مطابق نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی 30 روزہ حراست کے احکامات 20 ستمبر کو جاری کیے گئے تھے۔ حکم میں ماضی کے احتجاج اور آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے امن عامہ کے خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔

یہ گرفتاریاں پی ٹی آئی کی جانب سے 27 ستمبر کو احتجاج اور اسلام آباد مارچ کی کال کے تناظر میں سامنے آئی ہیں۔ اس سے قبل عمران خان کی بہن علیمہ خان کو بھی لاہور میں MPO کے تحت حراست میں لے کر کوٹ لکھپت جیل منتقل کیا گیا تھا۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کے معاملے میں قانونی اختیار، حراست کی وجوہات، مناسب قانونی عمل اور عدالتی و قانونی حقوق کی پاسداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سیاسی احتجاج کے دوران ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں کے آئینی حقوق اور پرامن سیاسی سرگرمیوں کے قانونی دائرے کو بھی ملحوظ رکھا جائے۔

اگر کسی فرد کو MPO یا دیگر قانونی اختیارات کے تحت حراست میں لیا جائے تو متعلقہ احکامات اور ان کے قانونی جواز کو شفاف طریقے سے دستیاب رکھنا عوامی اعتماد کے لیے اہم ہے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب میڈیا رپورٹس اور متعلقہ حکام کے احکامات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ حراست سے متعلق الزامات اور حکومتی مؤقف کو حتمی عدالتی فیصلہ تصور نہیں کیا جانا چاہیے۔ خبر میں سیاسی جماعت یا کسی فرد کے مؤقف کو اسی فریق کی جانب سے پیش کردہ مؤقف کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں