4

تیل کی سپلائی میں رکاوٹیں، پاکستانی صارفین کیلئے مشکلات بڑھنے کا خدشہ

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اہم بحری و زمینی سپلائی راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان میں تیل کی درآمد اور آئندہ سپلائی کے حوالے سے مشکلات بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان اپنی خام تیل کی درآمدات کے ایک بڑے حصے کے لیے خلیجی ذرائع پر انحصار کرتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت نمایاں طور پر متاثر ہوئی ہے، جبکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے راستے بھی سکیورٹی خدشات کا شکار ہیں۔ تازہ شپنگ ڈیٹا کے مطابق آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بڑے تجارتی جہازوں کی تعداد جنگ سے قبل کی سطح کے مقابلے میں بہت کم رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بھی حملوں کے بعد عارضی طور پر بند ہے۔ یہ پائپ لائن سعودی خام تیل کو مشرقی علاقوں سے بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع تک پہنچانے کا اہم ذریعہ ہے اور آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے۔

پاکستانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے متبادل ذرائع اور راستوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ان میں عمان اور متحدہ عرب امارات کے راستوں کے علاوہ لیبیا، امریکا، مغربی افریقہ اور قازقستان جیسے ذرائع سے خام تیل حاصل کرنے کے امکانات بھی شامل ہیں۔

حکام کے مطابق پاکستانی بندرگاہوں پر انتہائی بڑے خام تیل بردار جہازوں کو لنگر انداز کرنے کی گنجائش بھی ایک عملی چیلنج ہے، جس کے باعث بعض صورتوں میں عمان یا ساحلی مقامات کے قریب جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے جیسے انتظامات زیرِ غور آسکتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق پاکستان نے اپنی پٹرولیم سپلائی چین کو فعال رکھنے کے لیے متبادل انتظامات شروع کر رکھے ہیں، تاہم نومبر کی تیل کی درآمدات کے لیے جہازوں کی دستیابی، مال برداری اور جنگی خطرے کے انشورنس اخراجات میں اضافے کے باعث درآمدی لاگت بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔

پاکستان کی وزارتِ پٹرولیم پہلے بھی واضح کرچکی ہے کہ حکومت توانائی کی سپلائی چین کو برقرار رکھنے اور متبادل راستوں سے تیل کی فراہمی کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

تازہ بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سعودی تیل کی برآمدات بھی موجودہ علاقائی صورتحال سے متاثر ہوئی ہیں، تاہم سعودی عرب نے کچھ سپلائی آبنائے ہرمز کے راستے جاری رکھی ہے۔

صنعتی ذرائع کے مطابق اگر بحری راستوں میں رکاوٹیں طویل ہوئیں تو مال برداری اور انشورنس کے اخراجات میں اضافے کا اثر درآمدی تیل کی قیمت پر پڑ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

حکومت اور متعلقہ ادارے آئندہ ماہ کی تیل سپلائی کے لیے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی چین کو بلا تعطل برقرار رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

توانائی کی مسلسل فراہمی عام شہریوں، ٹرانسپورٹ، صنعت، زراعت اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں سے براہِ راست منسلک ہے۔ تیل کی درآمدی لاگت میں اضافہ بالخصوص کم اور متوسط آمدنی والے خاندانوں پر اضافی مالی دباؤ ڈال سکتا ہے۔

ایسی صورتحال میں حکومت کے لیے ضروری ہے کہ تیل کے ذخائر، درآمدی منصوبہ بندی، قیمتوں کے تعین اور متبادل سپلائی ذرائع سے متعلق معلومات شفاف انداز میں عوام کے سامنے رکھے۔ کسی بھی ممکنہ قلت کی صورت میں ضروری اشیاء کی دستیابی اور کم آمدنی والے طبقے کے تحفظ کے لیے بروقت اقدامات بھی اہم ہیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر دستیاب سرکاری بیانات، بین الاقوامی شپنگ رپورٹس اور میڈیا ذرائع کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تیل کی سپلائی، عالمی قیمتوں، بحری راستوں اور ممکنہ قلت سے متعلق صورتحال تیزی سے تبدیل ہوسکتی ہے۔ مستقبل میں قیمتوں یا قلت کے بارے میں بیان کردہ خدشات کو حتمی پیش گوئی نہ سمجھا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں