24

“جمہوریت یا شاہی طرزِ حکمرانی؟”

پاکستان میں ایک طرف عام آدمی مہنگائی، بجلی کے بلوں، بے روزگاری اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے، تو دوسری جانب وفاقی اداروں کی تعمیر، تزئین و آرائش اور سرکاری آسائشوں پر اربوں روپے کے نئے ٹینڈرز نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکومتی دستاویزات اور مختلف ٹینڈر نوٹس کے مطابق فیڈرل الیکشن اکیڈمی اور الیکشن کمیشن کے دفاتر کی تعمیر کے لیے بھاری مالیت کے منصوبے سامنے آئے ہیں، جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ کی نئی رہائش گاہوں کیلئے بھی اربوں روپے کے منصوبے شروع کیے جا رہے ہیں۔

* فیڈرل الیکشن اکیڈمی اور الیکشن کمیشن سے متعلق منصوبوں کیلئے بڑے پیمانے پر تعمیراتی ٹینڈرز طلب کیے گئے ہیں۔
* اراکینِ پارلیمنٹ کیلئے نئی رہائش گاہوں پر تقریباً **ایک ارب 84 کروڑ 68 لاکھ 42 ہزار 457 روپے** خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
* منصوبے کے تحت **104 فیملی سوٹس** تعمیر یا اپ گریڈ کیے جائیں گے۔
* ان رہائش گاہوں میں **500 ائیر کنڈیشنرز** نصب کرنے اور لابیوں میں جدید **VRF (Variable Refrigerant Flow) سسٹم** لگانے کیلئے الگ ٹینڈرز جاری کیے گئے ہیں۔
* ذرائع کے مطابق صرف HVAC اور کولنگ انفراسٹرکچر پر تقریباً **ایک ارب 90 کروڑ روپے** تک لاگت آنے کا تخمینہ ہے۔

یہ اعداد و شمار ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستان آئی ایم ایف پروگرام، بڑھتے قرضوں، سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں اور عوامی سبسڈی ختم کرنے جیسے سخت معاشی اقدامات سے گزر رہا ہے۔

## “عوام کیلئے کفایت شعاری، اشرافیہ کیلئے لگژری؟”

سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا ملک واقعی معاشی بحران میں ہے؟ اگر ہے، تو پھر اربوں روپے کی سرکاری رہائش گاہوں میں سینکڑوں ائیر کنڈیشنرز اور لگژری کولنگ سسٹمز کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان پہلے ہی:

* گردشی قرضوں
* بڑھتے مالی خسارے
* روپے کی کمزور ہوتی قدر
* اور قرضوں کی واپسی کے دباؤ

کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں سرکاری اخراجات کا ہر منصوبہ عوامی جانچ کا متقاضی ہے۔

ایک سینئر ماہرِ معیشت نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا:

“جب حکومت عوام سے کہتی ہے کہ بجلی کم استعمال کریں، گیس بچائیں اور سادگی اپنائیں، تو پھر سرکاری رہائش گاہوں میں 500 ائیر کنڈیشنرز لگانے کا پیغام عوام کیلئے انتہائی منفی ہے۔”

## الیکشن کمیشن کے اخراجات پر بھی سوالات

الیکشن کمیشن آف پاکستان پہلے ہی ملک کے مہنگے ترین آئینی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ماضی میں بھی الیکشن کمیشن کو انتخابی اخراجات، انتخابی اصلاحات، ای وی ایم تنازعات اور انتخابی انتظامی معاملات پر شدید تنقید کا سامنا رہا ہے۔

اب جب کہ نئے دفاتر اور فیڈرل الیکشن اکیڈمی کے نام پر مزید تعمیراتی منصوبے سامنے آئے ہیں، اپوزیشن حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ:

* کیا موجودہ انفراسٹرکچر ناکافی تھا؟
* کیا اس وقت یہ اخراجات قومی ترجیح ہیں؟
* کیا منصوبوں کی مکمل شفافیت اور آڈٹ ہوگا؟
* کیا ان ٹینڈرز میں اوپن بڈنگ اور عالمی معیار کی نگرانی شامل ہوگی؟

“104 فیملی سوٹس” — سرکاری رہائش یا فائیو اسٹار کمپلیکس؟

ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ لاجز اور متعلقہ رہائشی منصوبوں میں جدید طرز کے فیملی سوٹس تیار کیے جا رہے ہیں، جن میں:

* جدید HVAC سسٹمز
* VRF کولنگ
* اعلیٰ معیار کی لابیز
* نئے فرنیچر
* اور جدید سہولیات

شامل ہوں گی۔ ماضی میں بھی پارلیمنٹ لاجز اور ہوسٹلز سے متعلق متعدد ٹینڈرز سامنے آتے رہے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبے “عوامی خدمت” سے زیادہ “حکمران اشرافیہ کی سہولت” محسوس ہوتے ہیں۔

## VRF سسٹم کیا ہے اور اتنا مہنگا کیوں؟

VRF یعنی Variable Refrigerant Flow ایک جدید ائیر کنڈیشننگ سسٹم ہے جو عموماً:

* لگژری ہوٹلز
* کارپوریٹ ٹاورز
* شاپنگ مالز
* اور ہائی اینڈ عمارتوں

میں استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ نظام بجلی کی بچت اور سینٹرلائزڈ کولنگ کیلئے مؤثر سمجھا جاتا ہے، مگر اس کی تنصیب اور مینٹیننس انتہائی مہنگی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر 104 سوٹس اور لابیوں کیلئے اتنے بڑے پیمانے پر VRF سسٹم لگایا جا رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ منصوبہ انتہائی ہائی اینڈ انفراسٹرکچر کے تحت تیار کیا جا رہا ہے۔

ان تمام اخراجات سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ “کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟”

سوشل میڈیا پر شہریوں نے شدید ردعمل دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ:

* کیا سرکاری نمائندے عوام جیسے حالات میں نہیں رہ سکتے؟
* کیا ممبرانِ پارلیمنٹ کیلئے سادگی کا کوئی معیار نہیں؟
* کیا بجلی کے بحران والے ملک میں سینکڑوں نئے اے سیز لگانا مناسب فیصلہ ہے؟

کئی صارفین نے طنزیہ انداز میں لکھا:
“عوام لوڈشیڈنگ میں بیٹھیں، جبکہ اشرافیہ کیلئے VRF سسٹم!”

ایک اور صارف نے لکھا:
“حکومت کہتی ہے پنکھا کم چلاؤ، اور خود اربوں کے کولنگ سسٹم لگا رہی ہے!”

شفافیت کا سب سے بڑا سوال

پاکستان میں ماضی میں بھی سرکاری تعمیراتی منصوبوں، ٹینڈرز اور ترقیاتی اسکیموں پر:

* اوور انوائسنگ
* مخصوص کمپنیوں کو نوازنے
* لاگت بڑھانے
* اور کمیشن خوری

کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

اسی لیے شہری حلقے مطالبہ کر رہے ہیں کہ:

1. تمام ٹینڈر دستاویزات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
2. بڈنگ پراسیس مکمل شفاف ہو۔
3. نیب، آڈیٹر جنرل اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نگرانی کرے۔
4. ہر مرحلے کی تفصیلات آن لائن جاری کی جائیں۔

اصل سوال یہ ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟

پاکستان میں اس وقت:

* سرکاری اسکولوں کی حالت خراب ہے،
* اسپتالوں میں ادویات نہیں،
* لاکھوں نوجوان بے روزگار ہیں،
* بجلی اور گیس کے نرخ آسمان پر ہیں،
* اور عام آدمی دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہے۔

ایسے میں اربوں روپے کے سرکاری رہائشی منصوبے اور لگژری کولنگ سسٹمز عوام کیلئے ایک تکلیف دہ تضاد بن چکے ہیں۔

فیڈرل الیکشن اکیڈمی، الیکشن کمیشن دفاتر اور اراکینِ پارلیمنٹ کی رہائش گاہوں سے متعلق اربوں روپے کے ٹینڈرز نے نہ صرف سیاسی بلکہ اخلاقی اور معاشی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں حکومت عوام کو کفایت شعاری کا درس دے رہی ہو، وہاں حکمران طبقات کیلئے لگژری انفراسٹرکچر کے منصوبے عوامی غصے کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

اب اصل امتحان صرف تعمیرات کا نہیں بلکہ شفافیت، احتساب اور قومی ترجیحات کا ہے۔

اگر عوام کے ٹیکس کے پیسے خرچ ہو رہے ہیں، تو عوام کو جواب بھی ملنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں