بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا درست نہیں، مولانا الیاس قادری

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)) امیر اہل سنت حضرت علامہ محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ نے کہا ہے کہ کبھی کبھار انسان کسی صدمے، یتیمی یا محرومی کا شکار ہو جاتا ہے تو اس کے دل میں احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے، یاد رکھیں یہ سوچ ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ ”میں نہیں کر سکتا” جیسے الفاظ دل و دماغ سے نکال دینے چاہئیں، اللہ پاک کی مدد شامل حال ہوتو آپ سب کچھ کر سکتے ہیں،لہٰذا مایوسی کو چھوڑ دیں کیونکہ عمل سے کامیابی حاصل ہوتی ہے، اللہ جسے چاہے عزت اور عروج عطا فرماتا ہے، دنیا میں عزت اور زوال آتے جاتے رہتے ہیں، اصل کامیابی تو ایمان کے ساتھ دنیا سے جانا ہے۔ہفتہ وار مدنی مذاکرے میں گفتگو کرتے ہوئے امیر اہل سنت نے کہا کہ بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا درست نہیں، اکثر لوگ سنی سنائی باتوں پر کہہ دیتے ہیں کہ فلاں کمپنی کی پروڈکٹ حرام ہے، جو چیز واقعی حرام ہو اس سے بچنا فرض ہے، لیکن محض سنی سنائی باتوں پر کسی چیز کو حرام کہنا درست نہیں، لیکن اگر کوئی شخص مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا ہے یا دھوکہ دیتا ہے تو ایسی صورت میں مسلمانوں کو بچانے کیلئے اس کی نشاندہی کرنا جائز ہے۔ امیر اہل سنت نے کہا کہ بعض لوگ جنہیں دنیا عزت دیتی ہے، جب ان پر زوال آتا ہے تو وہی لوگ تنقید کرنے لگتے ہیں اور وہ لوگ تنہائی میں چلے جاتے ہیں، یاد رکھیں! ہر نعمت اللہ کا انعام ہے اور بندے پر لازم ہے کہ وہ ہمیشہ شکر اور عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور جھکا رہے، جو اللہ کیلئے عاجزی اختیار کرتا ہے، وہی بلند مقام پاتا ہے لہٰذا خود کو نیک سمجھنا مناسب نہیں، انسان کو ہمیشہ اپنے گناہوں کا احساس اور اللہ کے حضور عاجزی رکھنی چاہئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں