مردان(ایچ آراین ڈبلیو)ہسپتال ترقی کے بجائے تنزلی کی طرف، انتظامی بحران شدید تخت بھائی (امتیاز ٹکر نمائندہ خصوصی) مردان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال میں صورتحال بگڑ گئی۔ بی او جی (بورڈ آف گورنرز) چیئرمین کی مبینہ انتقامی پالیسیوں نے ادارے کو بحران سے دوچار کردیا۔ ہسپتال کی ترقی اور مریضوں کی سہولیات پر توجہ دینے کے بجائے عملے کو تبادلوں اور پوسٹنگ کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
قابل ترین ڈاکٹرز کو سیٹوں سے ہٹا دیا گیا
اورنگزیب کشمیری، مرکزی چیئرمین انٹرنیشنل ہیومن رائٹس فیڈریشن آف پاکستان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ:
“بی او جی چیئرمین نے قابل ترین اور تجربہ کار ڈاکٹرز کو ان کی ذمہ داریوں سے ہٹا کر ہسپتال کو جام کردیا ہے۔ یہ رویہ سراسر انتقامی ہے، جس کا خمیازہ مریض بھگت رہے ہیں۔”
مریض سہولیات سے محروم، ملازمین بددل
ذرائع کے مطابق ہسپتال میں نہ نئی مشینری لائی گئی، نہ علاج معالجے کے معیار کو بہتر بنایا گیا۔ اس کے برعکس ملازمین اور افسران کو غیر ضروری طور پر ہٹایا جارہا ہے۔ اس طرزِ عمل نے طبی عملے میں خوف اور بددلی پیدا کر دی ہے، اور مریضوں کو بروقت علاج معالجہ نہیں مل رہا۔
عوام اور سماجی حلقوں کا مطالبہ
عوامی و سماجی حلقوں نے حکومت خیبرپختونخوا اور محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری نوٹس لے کر ہسپتال کو ذاتی انتقامی کارروائیوں سے نکالا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ عوام کے علاج کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن موجودہ رویہ اسے تباہی کے دہانے پر لے آیا ہے۔


