استانی کے قتل کے بعد لاش جلانے کے معاملے میں نیا موڑ

قصور(ایچ آراین ڈبلیو)پاکپتن میں استانی کو قتل کرنے کے بعد لاش جلانے کے سنگین مقدمے میں نامزد مرکزی ملزم کانسٹیبل زاہد سکھیرا پولیس کی حراست میں جاں بحق ہو گیا، جس پر اس کے ورثاء کا مؤقف سامنے آ گیا ہے۔

جاں بحق ہونے والے کانسٹیبل زاہد سکھیرا کے بھائی شاہد اسحاق سکھیرا ایڈووکیٹ نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بھائی کو پولیس نے جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیا اور دورانِ حراست تشدد کر کے قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قتل اور اغواء کے واقعات کے وقت زاہد سکھیرا کراچی میں زیر علاج تھا۔

شاہد اسحاق سکھیرا کے مطابق سازشی عناصر نے مل کر ان کے بھائی کو اس مقدمے میں ملوث کیا۔ انہوں نے کہا کہ زاہد سکھیرا پانچ وقت کا نمازی تھا اور اس کے خلاف بنائی گئی کہانی بے بنیاد ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے بھائی نے سندھ ہائی کورٹ سے پروٹیکٹو ضمانت حاصل کر رکھی تھی اور وہ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے سامنے آیا تھا۔

ورثاء کا یہ بھی کہنا ہے کہ زاہد سکھیرا کے خلاف ایک مدعی عمر دراز کی مدعیت میں دو جھوٹے مقدمات درج کیے گئے۔ اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی انکوائری کی جا رہی ہے، جبکہ ملزم کی ہلاکت کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں