پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے: صدر حیدرآباد چیمبر محمد سلیم میمن

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر محمد سلیم میمن نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کومحض ایک وقتی مالی بحران نہیں بلکہ قومی سطح پر ناقص معاشی منصوبہ بندی، وسائل کے غیر مؤثر استعمال اور پالیسی سازی میں دوراندیشی کے فقدان کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج پاکستان جس معاشی دباؤ، مہنگی توانائی، غیر مستحکم صنعت اور کاروباری بے یقینی کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ صرف عالمی حالات نہیں بلکہ ہماری اپنی کمزور منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل سے بھرپور ملک ہونے کے باوجود ان سے مکمل استفادہ نہ کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو کوئلہ، گیس، پانی، ہوا، سورج کی روشنی اور دیگر بے شمار قدرتی وسائل سے نوازا ہے، مگر بدقسمتی سے ان وسائل کو قومی ترقی، سستی توانائی اور صنعتی استحکام کے لیے مؤثر حکمت عملی کے تحت استعمال کرنے کے بجائے ملک کو درآمدی ایندھن، مہنگے پاور معاہدوں اور بیرونی مالی دباؤ پر زیادہ انحصار کرنے والی پالیسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ماضی میں درست سمت میں منصوبہ بندی کی جاتی، قومی وسائل کو ترجیح دی جاتی، اور توانائی کے شعبے میں سنجیدہ اصلاحات نافذ کی جاتیں تو آج پاکستان کو پیٹرولیم قیمتوں میں عالمی اتار چڑھاؤ، بین الاقوامی جنگی صورتحال یا بیرونی دباؤ کے نتیجے میں اس قدر شدید معاشی جھٹکے برداشت نہ کرنا پڑتے۔ سلیم میمن نے کہا کہ قابلِ تجدید توانائی خصوصاً سولر، ونڈ اور دیگر متبادل ذرائع کی طرف دنیا تیزی سے بڑھ رہی ہے اور پاکستان نے بھی اس سمت قدم تو بڑھایا، مگر انتہائی افسوسناک امر یہ ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے سستی بجلی کی ترسیل کے لیے درکار ٹرانسمیشن لائنز اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بروقت تکمیل نہ ہونے کے باعث یہ شعبہ اپنی مکمل استعداد کے مطابق قوم کو فائدہ نہیں دے سکا۔ انہوں نے کہا کہ نو سال گزرنے کے باوجود متعدد اہم ٹرانسمیشن منصوبوں کی تکمیل میں تاخیر نے نہ صرف سستی بجلی کی پیداوار کو محدود رکھا بلکہ قومی سرمایہ، قیمتی زرمبادلہ اور معاشی مواقع بھی ضائع کیے۔صدر چیمبر نے کہا کہ جب ایک ملک اپنی پیدا کردہ نسبتاً سستی توانائی کو مؤثر انداز میں قومی گرڈ تک منتقل نہ کر سکے، اپنی صنعت کو کم لاگت بجلی فراہم نہ کر سکے، اور مقامی وسائل کے باوجود درآمدی فیول پر انحصار کرے تو پھر پیٹرولیم قیمتوں میں معمولی عالمی اضافہ بھی پوری معیشت، صنعت، تجارت اور عوام کے لیے بحران بن جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ صرف پیٹرول مہنگا ہونا نہیں بلکہ وہ پالیسی خلا ہے جس نے پاکستان کو اس مقام پر لاکھڑا کیا جہاں ہر عالمی بحران براہِ راست ملکی معیشت کو ہلا دیتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے قومی وسائل کی درست مینجمنٹ، شفاف منصوبہ بندی، جدید انفراسٹرکچر، اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت، صنعتی نمائندوں کی شمولیت اور توانائی کے شعبے میں طویل المدتی اصلاحات پر توجہ دے تو پاکستان نہ صرف درآمدی ایندھن پر انحصار کم کر سکتا ہے بلکہ اپنی صنعت، برآمدات اور کاروباری ماحول کو بھی عالمی غیر یقینی صورتحال سے محفوظ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ معیشت کو وقتی فیصلوں، اضافی ٹیکسوں اور ہنگامی ردعمل سے نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر قومی خودکفالت، درست ترجیحات اور مؤثر حکمت عملی سے مضبوط کیا جا سکتا ہے۔صدرچیمبر سلیم میمن نے کہا کہ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو صرف ریونیو کا ذریعہ بنانے کے بجائے اس بحران کو قومی معاشی ڈھانچے کی اصلاح کے تناظر میں دیکھے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسی ساز ادارے، توانائی ماہرین، صنعتکار، تاجر برادری اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز ایک مشترکہ قومی حکمت عملی تشکیل دیں تاکہ پاکستان اپنے قدرتی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگی توانائی، درآمدی دباؤ اور عالمی اتار چڑھاؤ سے خود کو محفوظ بنا سکے۔انہوں نے کہا کہ اگر آج بھی درست سمت میں سنجیدہ منصوبہ بندی نہ کی گئی تو نہ صرف صنعت اور تجارت بلکہ عام آدمی بھی مسلسل بڑھتے معاشی دباؤ کا شکار رہے گا، تاہم اگر قومی وسائل کو دیانتداری، دانشمندی اور مؤثر انتظام کے ساتھ بروئے کار لایا جائے تو پاکستان نہ صرف توانائی کے بحران پر قابو پا سکتا ہے بلکہ ایک مضبوط، خودمختار اور پائیدار معاشی مستقبل کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں