پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے اضافہ عوام دشمن فیصلہ ہے: ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) جمعیت علماء پاکستان اور ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 26 روپے 77 پیسے اضافے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام دشمن، ظالمانہ اور معیشت شکن فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود پاکستان کی تیل سپلائی متاثر نہیں ہوئی بلکہ ملک کو اضافی سہولتیں میسر آئیں اور بندرگاہی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا، مگر اس کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے بجائے مہنگائی کا نیا طوفان مسلط کردیا گیا۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ حکومتی پالیسیاں قومی مفاد کے بجائے عالمی مالیاتی اداروں کے ایجنڈے کے تابع ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کا تمام فائدہ اشرافیہ اور مراعات یافتہ طبقہ سمیٹ لیتا ہے، جبکہ قیمتوں میں اضافے کا سارا بوجھ غریب عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ اضافہ قوم کے ساتھ سنگین مذاق اور آئی ایم ایف کی ایماء پر کیے جانے والے معاشی استحصال کا تسلسل ہے۔ آخر کب تک پاکستانی قوم کو مہنگائی، ٹیکسوں اور ظالمانہ فیصلوں کی چکی میں پسایا جاتا رہے گا؟ عوام کب سکھ کا سانس لے سکیں گے؟ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ قوم اب مزید مہنگائی برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔ گیس، بجلی اور پانی جیسی بنیادی سہولتوں کی قلت، طویل لوڈشیڈنگ، بے روزگاری اور مہنگائی نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ جلتی پر تیل ڈالنے کے مترادف ہے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جائے اور عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر مہنگائی کے خلاف عوامی ردعمل شدت اختیار کرسکتا ہے، جس سے ملک میں بے چینی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوگی، جس کا متحمل پاکستان نہیں ہوسکتا۔انہوں نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے بھی مطالبہ کیا کہ پاکستانی قوم پر معاشی ظلم بند کیا جائے، کیونکہ مسلسل گرتا معیارِ زندگی اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کو شدید ذہنی اذیت میں مبتلا کردیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں