کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) سندھ حکومت نے چینی کی برآمد سے متعلق اہم پیش رفت کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو باضابطہ طور پر اپنی سفارشات سے آگاہ کر دیا ہے۔ذرائع کے مطابق شگر ملز ایسوسی ایشن نے وفاقی حکومت کو ملک بھر میں دستیاب چینی کے ذخائر سے متعلق تفصیلی آگاہی فراہم کی تھی، جس کے بعد چینی کی برآمد کے فیصلے پر غور کیا گیا۔
سندھ کابینہ نے اضافی چینی کی برآمد کی سفارش کی منظوری دیتے ہوئے 7 لاکھ 67 ہزار میٹرک ٹن چینی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دینے کی سفارش کی ہے۔ سندھ کابینہ کو بتایا گیا کہ حالیہ کرشنگ سیزن کے دوران ملک میں 76 لاکھ میٹرک ٹن چینی پیدا ہوئی ہے۔
محکمہ زراعت سندھ کی جانب سے کابینہ کو دی گئی سمری کے مطابق جون 2026 تک چقندر سے مزید 0.086 ملین میٹرک ٹن چینی کی پیداوار متوقع ہے۔ اس وقت پاکستان میں چینی کا مجموعی اسٹاک 7.958 ملین میٹرک ٹن ہے۔
محکمہ زراعت سندھ نے سمری میں بتایا کہ آئندہ 12 ماہ میں ملک میں چینی کی متوقع کھپت 6.638 ملین میٹرک ٹن ہوگی، جبکہ شگر ملز کے پاس ایک ماہ کے اسٹریٹجک ریزرو 0.539 ملین میٹرک ٹن کے علاوہ اضافی چینی بھی موجود ہے۔
دوسری جانب 11 اپریل کو وزارت صنعت و پیداوار کے اجلاس میں چینی کے ذخائر کی تصدیق پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد وفاقی حکومت نے اسٹیک ہولڈرز کی رضامندی سے چینی اسٹاک کے تھرڈ پارٹی آڈٹ کا فیصلہ کیا۔
ذرائع کے مطابق سندھ حکومت کی سفارشات موصول ہونے کے بعد وفاقی حکومت جلد چینی کی برآمد کی اجازت دینے کا حتمی فیصلہ کرے گی۔


