**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**چیئرمین پاکستان تحریک انصاف **بیرسٹر گوہر خان** نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو اعلان کردہ انصاف مارچ پُرامن ہوگا، اللہ نہ کرے مارچ کے دوران کوئی گولی چلے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل سیاسی طریقے سے نکالا جانا چاہیے اور عدالتوں کو سیاسی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنا چاہیے۔
اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر سینیٹ **علامہ راجا ناصر عباس** کے ہمراہ گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ان کے مطابق ملک کی بڑی تعداد عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے اور بانی پی ٹی آئی کے ساتھ دہشت گردوں جیسا سلوک جمہوری سوچ کی عکاسی نہیں کرتا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو نظر انداز کرنا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی نے ہمیشہ پُرامن رہنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور انصاف مارچ بھی پُرامن ہوگا۔
بیرسٹر گوہر نے کارکنوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالبہ صرف انصاف ہے۔ انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مختلف افراد ملاقات کا دعویٰ کررہے ہیں، تاہم ان کے مطابق عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی انصاف مارچ کو آگے بڑھائے گی اور ملک کے تمام سیاسی معاملات کو بھی ساتھ لے کر چلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کارکنوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی صورت میں اشتعال انگیزی سے گریز کیا جائے۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر سینیٹ **علامہ راجا ناصر عباس** نے دعویٰ کیا کہ انصاف مارچ کے اعلان کے بعد پنجاب میں پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے، جسے انہوں نے قابلِ مذمت قرار دیا۔
راجا ناصر عباس نے کہا کہ پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے لیکن اسے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جارہی۔ ان کے مطابق ملک پہلے ہی سیاسی، معاشی اور امن و امان کے بحرانوں سے دوچار ہے اور احتجاج کے حق کو محدود کرنا صورتحال کو مزید پیچیدہ کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’جہاں احتجاج مر جاتا ہے، وہاں معاشرے مر جاتے ہیں‘‘ اور ان کے مطابق ملک کو طاقت کے بجائے آئین اور قانون کی حکمرانی کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے۔
راجا ناصر عباس نے مزید کہا کہ ملک کی وفاقی وحدت اور سالمیت کو خطرات لاحق ہیں اور 27 ستمبر کو عوام کے مسائل کے لیے احتجاج کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پارلیمان غیر مؤثر ہوچکی ہے جبکہ بنیادی حقوق سے متعلق بعض عدالتی فیصلوں سے جمہوریت کو فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
پُرامن احتجاج، سیاسی اظہارِ رائے اور اجتماع شہریوں کے بنیادی جمہوری حقوق میں شامل ہیں۔ اسی طرح ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے کہ احتجاج کے دوران شہریوں، کارکنوں، پولیس اور دیگر افراد کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔ کسی بھی تصادم، گرفتاری یا طاقت کے استعمال کی صورت میں قانون کے مطابق شفاف کارروائی اور بنیادی حقوق کا احترام ضروری ہے۔ سیاسی اختلافات کا حل تشدد کے بجائے آئینی، قانونی اور پُرامن سیاسی عمل کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، جمہوری آزادیوں، قانون کی حکمرانی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر بیرسٹر گوہر خان اور علامہ راجا ناصر عباس کے بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی الزامات، اعداد و شمار اور حکومتی یا ریاستی اقدامات سے متعلق دعوے متعلقہ سیاسی رہنماؤں سے منسوب ہیں اور انہیں HRNW کی جانب سے آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق یا ادارتی مؤقف کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔


