9

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام سول سرونٹ و مصنف عزیز احمد زئی کی کتاب ’’Somewhere in Between—A Memoir‘‘ کی تقریبِ رونمائی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام سول سرونٹ و مصنف عزیز احمد زئی کی کتاب ’’Somewhere in Between—A Memoir‘‘ کی تقریبِ رونمائی حسینہ معین ہال میں منعقد ہوئی، جس کی صدارت مہتاب اکبر راشدی نے کی۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا، جبکہ مہمان خصوصی رضوان صدیقی، غفران احمد، ڈاکٹر عاصم جعفری، مسرور احمد زئی، سید بلال مہدی، ڈاکٹر سید راشد علی جعفری، شیراز صدیقی ، ایمن صدیقی اور نے کتاب اور مصنف کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا۔ تقریب میں ادبی و تعلیمی حلقوں سے وابستہ شخصیات اور عزیز احمد زئی کے اہلِ خانہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سعدیہ راشد نے اقتباس پڑھ کر سنایا۔ اس موقع پر صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ عزیز احمد زئی ہمارے لیے بھی بہت عزیز ہیں، ان کے والد انوار زئی سے ہمارا تعلق بہت پرانا ہے اور ان کے خاندان کی محبت و شفقت ہمیشہ قائم رہی۔ عزیز کو اپنے والد اور خاندان کی اچھی روایات اور اقدار پر فخر ہے، تاہم ان کی کتاب پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے لیے ایک الگ مقام بھی بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں عزیز نے اپنی زندگی کے تجربات، یادوں اور مشاہدات کو سادگی اور بے ساختگی سے بیان کیا ہے اور تحریر سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ ان کے حقیقی احساسات اور تجربات ہیں۔ انہوں نے عزیز احمد زئی، ان کے خاندان اور دوستوں کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد دی۔ مجلس صدارت مہتاب اکبر راشدی نے کہا کہ عزیز احمد زئی کی کتاب پڑھنے کے بعد اس تقریب میں شرکت میرے لیے ضروری ہوگئی تھی۔ ابتدا میں حیرت ہوئی کہ کتاب انگریزی میں کیوں لکھی گئی، تاہم کتاب پڑھنے کے بعد معلوم ہوا کہ عزیز کی تعلیمی اور عملی زندگی کا بڑا حصہ انگریزی زبان کے ماحول میں گزرا، اس لیے یہ انتخاب فطری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب کی خوبصورتی یہ ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے قاری خود بخود آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ کتاب کا سرورق خاندان، تربیت، محبت اور نسلوں کے درمیان منتقل ہونے والی اقدار کی علامت ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں پر اپنی خواہشات مسلط کرنے کے بجائے ان کی صلاحیتوں اور رجحانات کو سمجھیں، کیونکہ آج کے بچے ٹیکنالوجی کے دور میں اپنے ماحول سے سیکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔ مہمان خصوصی رضوان صدیقی نے کہا کہ انوار زئی کے گھرانے میں خاندان کو ہمیشہ مرکزی حیثیت حاصل رہی اور خاندان کی اس روایت کو عزیز احمد زئی اور ان کے بھائی ڈاکٹر مسرور احمد نے آگے بڑھایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزیز کے والدین نے ان کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا اور انوار زئی بچوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔ عزیز نے اپنی کتاب میں خاندان کی علمی، ادبی اور تہذیبی تربیت کو خوبصورتی سے سمویا ہے۔ انہوں نے کتاب کو سراہتے ہوئے کہا کہ اہم واقعات کے ساتھ تاریخ یا سن کا حوالہ بھی ہونا چاہیے تاکہ آئندہ محققین کے لیے کتاب زیادہ مفید اور دستاویزی بن سکے۔ غفران احمد نے کہا کہ میں عزیز احمد زئی کی شخصیت کو اپنے سول سروس کے تجربے کی روشنی میں دیکھتے ہیں۔ عزیز کی شخصیت کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے کام اور سروس ڈلیوری کے معاملے میں صابر، مستقل مزاج اور ذمہ دار رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عزیز نے سول سروسز اکیڈمی کے زمانے سے ہی ساتھیوں کے ساتھ فعال انداز میں کام کیا اور ہمیشہ ایمانداری، لگن اور ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دیے۔ ان میں کام کرنے کی صلاحیت، لوگوں سے معاملہ کرنے کا سلیقہ اور ذمہ داری نبھانے کا جذبہ نمایاں ہے۔ انہوں نے عزیز احمد زئی کو ایک اچھا مصور بھی قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں اپنی مصوری کی نمائش بھی کریں گے۔ میں عزیز احمد زئی کو کتاب کی اشاعت پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ڈاکٹر عاصم جعفری نے کہا کہ کتاب کا سرورق محبت، رہنمائی، اقدار اور حوصلے کی اس خاموش منتقلی کی نمائندگی کرتا ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتی رہتی ہے۔ سرورق پر دادا، بچہ اور مصنف جذباتی طور پر ایک ہی سلسلے میں دکھائی دیتے ہیں، جو **’’Somewhere in Between‘‘** کے عنوان کو بھی معنویت عطا کرتا ہے۔ شیراز صدیقی نے کہا کہ عزیز احمد زئی سے ان کی دوستی 22، 23 برس پرانی ہے۔ انہوں نے عزیز کو ہمیشہ خوش اخلاق، مددگار اور سادہ مزاج پایا اور کبھی انہیں غصے میں نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ عزیز کے خاندان نے ہمیشہ انہیں اپنے خاندان کا حصہ سمجھا اور آج بھی وہی محبت اور اپنائیت قائم ہے۔ عزیز میرے لیے صرف دوست نہیں بلکہ بھائی کی طرح ہیں۔ مسرور احمد زئی نے کہا کہ کتاب لکھنے والے کی تربیت کتاب لکھنے سے کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔ ہمارے والد نے ہم سب کی ایسی تربیت کی کہ ہم اپنے خواب، اپنے سفر اور اپنی ملاقاتیں لکھتے ہیں اور ان تجربات سے استفادہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے خاندان کی نئی نسل بھی علم و ادب کے سفر کو آگے بڑھا رہی ہے اور عزیز احمد زئی کی کتاب اس روایت کا تسلسل ہے۔ مصنف عزیز احمد زئی نے کہا کہ انہوں نے یہ کتاب سوچ سمجھ کر اپنے والد کے گرد گھومتی ہوئی نہیں لکھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کتاب کا ہر صفحہ ان کے والد انوار زئی کے گرد ہی گھومتا ہے۔ یہ کتاب انہی کے نام سے شروع ہوتی ہے اور انہی کے ذکر پر ختم ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی محبت، تربیت اور خاندانی اقدار نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میں جب بھی ان کے والد کا تذکرہ آئے گا، والدہ کے ذکر کے بغیر ان کا ذکر ممکن نہیں ہوگا۔ والدہ نے والد کو جس محبت اور شفقت کے ساتھ ایک نئے انداز میں ڈھالا، اس کے نتیجے میں وہ شخصیت سامنے آئی جسے آج سب یاد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ والدہ نے صرف محبت نہیں دی بلکہ کتابوں سے محبت بھی پیدا کی اور گھر میں لائبریری قائم کرنے کے عمل میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے تقریب میں شرکت کرنے اور محبت بھرے الفاظ کہنے پر تمام شرکاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں