**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ تمام مسلمانوں کا قبلہ ایک ہے اور حرمین شریفین کے حوالے سے جاری جنگ پر ایم کیو ایم پاکستان شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم گناہ گار مسلمان ہیں، لیکن اپنی حکومت اور پاک فوج کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی حکومت کی جانب سے رہنمائی ملے گی، وہ اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک مسلمان ہونے کے ناطے یہ ہمارے جذبات ہیں اور ہم اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں۔
### نئے صوبوں کے حوالے سے مؤقف
نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آپ اسے کوئی بھی نام دیں، وہ اسے نئے صوبے ہی کہیں گے۔ ان کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کا مؤقف ہے کہ ملک میں انتظامی یونٹس میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جو لوگ نئے انتظامی یونٹس کی مخالفت کرتے ہیں، ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کو نہیں مانتے، جبکہ باقی لوگ اپنے مفادات کی وجہ سے اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔
مصطفیٰ کمال نے دعویٰ کیا کہ سندھ کے لوگوں، خصوصاً سندھی بھائیوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی جا رہی ہے کہ نئے صوبے بننے سے قتل و غارت گری شروع ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوگا اور عوام کو اس حوالے سے حقائق سمجھنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کراچی کی ماضی کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قتل و غارت گری کا دور شہر میں گزر چکا ہے اور ایم کیو ایم پاکستان نے عوام کی خاطر اس صورتحال کے خاتمے کے لیے کردار ادا کیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اپنے قائد کو پہلے سمجھانے کی کوشش کی، لیکن جب بات نہیں بنی تو پارٹی نے اپنے قائد سے علیحدگی اختیار کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں میں شاید ہی کوئی ایسی مثال ملے کہ کسی جماعت نے اپنے قائد کو چھوڑا ہو۔
### اندرون سندھ کے عوام کے مسائل
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ اندرون سندھ کے رہنے والے انتہائی معصوم لوگ ہیں اور سندھ کی بہت سی مائیں اور بہنیں سڑکوں پر اپنے بچوں کی بازیابی کے لیے بیٹھی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اندرون سندھ میں بچوں کے اغوا کے واقعات عوام کے لیے ایک بڑا ظلم ہیں۔ مصطفیٰ کمال کے مطابق سندھ کے عوام کی ایک بڑی تعداد ایم کیو ایم کے ساتھ ہے اور سندھ میں بہت سے بزرگ اور اہم شخصیات بھی موجود ہیں جن کے نام اور کردار عوام کے سامنے ہیں۔
### انسانی پہلو
نئے انتظامی یونٹس، امن و امان، شہری سہولیات اور اندرون سندھ میں مبینہ اغوا کے واقعات جیسے معاملات براہِ راست عوام کے بنیادی حقوق، تحفظ اور ریاستی اداروں تک مؤثر رسائی سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے معاملات پر پالیسی سازی اور سیاسی بحث میں شہریوں کے تحفظ اور مساوی حقوق کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے۔
### HRNW Support Appeal
Human Rights News Worldwide (HRNW) انسانی حقوق، شہری آزادیوں، انصاف اور انسانی وقار کے فروغ کے لیے آزادانہ آگاہی اور رپورٹنگ کے مشن پر کام کرتا ہے۔ HRNW کے اس مشن کی حمایت کے لیے:
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
### Disclaimer
یہ خبر مصطفیٰ کمال کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سیاسی مؤقف، الزامات اور دعوے متعلقہ مقرر سے منسوب ہیں اور HRNW انہیں اپنی جانب سے حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ کسی بھی الزام یا دعوے کی قانونی حیثیت متعلقہ شواہد اور مجاز اداروں کے فیصلے سے طے ہوتی ہے۔


