19

27 ستمبر کے ممکنہ پی ٹی آئی احتجاج، پولیس نے تیاریاں شروع کردیں

**اسلام آباد — (ایچ آراین ڈبلیو)**اسلام آباد اور راولپنڈی میں **27 ستمبر کو پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج** کے پیش نظر پولیس نے سیکیورٹی اور انتظامی تیاریاں شروع کردی ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا منصوبہ تیار کرلیا گیا ہے، جبکہ مبینہ طور پر کارکنان کی فہرستیں متعلقہ تھانوں کو بھی فراہم کردی گئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ممکنہ احتجاج کے دوران راستوں کی بندش کے لیے **کنٹینرز کی پکڑ دھکڑ** بھی شروع کردی گئی ہے، جبکہ احتجاج کے پیش نظر پولیس افسران کے تقرر و تبادلے بھی کیے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں سے بھی اضافی پولیس نفری طلب کی جائے گی۔ ممکنہ مظاہرین کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ صورتحال کے مطابق **واٹر کینن اور ربر کی گولیوں** کے استعمال کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق ریڈ زون کی سیکیورٹی کے لیے **تین حصار** قائم کیے جائیں گے، جبکہ آئی جی اسلام آباد نئے **کمانڈ، کنٹرول، کمیونیکیشن اینڈ کوآرڈینیشن سینٹر** سے صورتحال کی نگرانی کریں گے۔

پولیس کی جانب سے یہ تیاریاں ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے اور اہم سرکاری تنصیبات سمیت ریڈ زون کی سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

پرامن احتجاج شہریوں کا آئینی و جمہوری حق ہے، جبکہ ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے کے ساتھ شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیِ اظہار کا بھی تحفظ کریں۔ کسی بھی گرفتاری یا طاقت کے استعمال کو قانون، ضرورت اور تناسب کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

ممکنہ احتجاج کے دوران عوام کی آمدورفت، کاروباری سرگرمیوں اور ہنگامی خدمات کی روانی متاثر نہ ہو، اس کے لیے انتظامیہ کو پیشگی اور شفاف انتظامات کرنے چاہئیں۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر پولیس ذرائع سے منسوب فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ممکنہ کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، نفری کی تعیناتی اور طاقت کے استعمال سے متعلق تفصیلات حتمی سرکاری احکامات یا عملی کارروائی کی صورت میں تبدیل ہوسکتی ہیں۔ کسی بھی شہری کے خلاف کارروائی قانون اور متعلقہ عدالتی عمل کے مطابق ہونا ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں