امریکا کی ایران سے نئے جوہری معاہدے کے لیے سخت شرائط سامنے آ گئیں

واشنگٹن(ایچ آراین ڈبلیو)وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے لیے نئی اور سخت درخواستوں کی ایک فہرست مرتب کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان شرائط کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام کو طویل المدت بنیادوں پر محدود کرنا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق مجوزہ مطالبات میں شامل ہیں کہ ایران آئندہ 20 سال تک یورینیم کی افزودگی نہیں کرے گا۔ اس کے علاوہ ایران کے پاس موجود تمام افزودہ یورینیم کی تحویل بھی دی جائے گی، جس میں نہ صرف 60 فیصد افزودگی والے تقریباً 400 کلوگرام مواد بلکہ 20 فیصد افزودگی والے سیکڑوں کلوگرام مواد بھی شامل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا چاہتا ہے ایران سرکاری طور پر یہ اعلان کرے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں۔ اسی طرح فردو، نطنز اور اصفہان میں قائم جوہری تنصیبات کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی فہرست کا حصہ ہے۔
امریکی شرائط کے مطابق تمام زیرِ زمین جوہری سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے گی، جبکہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کی جانب سے کیے جانے والے معائنوں کی درخواستوں پر فوری عملدرآمد بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مطالبات گزشتہ معاہدوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ سخت ہیں اور ان پر ایران کا ردعمل آنے والے دنوں میں عالمی سفارتی حلقوں کی توجہ کا مرکز رہے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں