حیدرآباد(ایچ آراین ڈبلیو)حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے افسران کے خلاف اینٹی کرپشن کورٹ حیدرآباد میں مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے، جس میں نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں اور طلبہ کے نمبرز میں ہیرا پھیری کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق گذشتہ روز اینٹی کرپشن میرپورخاص کی جانب سے حیدرآباد تعلیمی بورڈ میں چھاپے کے بعد متاثرہ والدین کی جانب سے اینٹی کرپشن کورٹ میں پٹیشن دائر کی گئی۔ مقدمے کی سماعت آج ہونا تھی تاہم عدالتی ورک سسپنشن کے باعث کیس کی نئی تاریخ 16 جون مقرر کر دی گئی ہے۔
درخواست گزار عرفان علی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسسٹنٹ کنٹرولر اعجاز علی کاکا (جسے ڈپٹی کنٹرولر سیکریٹ کا اضافی چارج بھی حاصل ہے)، کنٹرولر شکیل لغاری اور اسسٹنٹ محمد ساجد نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ اعجاز علی کاکا کے خلاف گذشتہ چار ماہ کے دوران اینٹی کرپشن کراچی، حیدرآباد اور میرپورخاص کی جانب سے مختلف الزامات پر لیٹرز جاری کیے گئے، تاہم وہ مبینہ طور پر سیاسی اثر و رسوخ کے باعث پیش نہیں ہوتا یا اپنے خلاف کارروائیوں کو غیر مؤثر بنوا دیتا ہے۔
پٹیشن میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض اہلکاروں نے مبینہ طور پر طلبہ کے نتائج میں رد و بدل کیا، کم نمبر حاصل کرنے والے طلبہ کو اعلیٰ گریڈ دیے گئے، اور مجموعی طور پر ہزاروں طلبہ کے نمبرز میں ہیرا پھیری کی گئی۔درخواست گزار کے مطابق تقریباً 16 ہزار طلبہ و طالبات کے نمبرز متاثر ہوئے جبکہ 700 سے زائد طلبہ کو مبینہ طور پر براہِ راست فرسٹ ایئر اور انٹرمیڈیٹ کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اس مبینہ نظام میں کنٹرولر شکیل لغاری کو بھی غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے، جبکہ ان سے بھی باقاعدہ جواب طلبی کی استدعا کی گئی ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 جون تک ملتوی کر دی ہے۔


