ڈسکہ(ایچ آراین ڈبلیو)ایک سال قبل پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے میں ساس اور نند نے اپنے ساتھی نوید عرف سونی کے ساتھ مل کر اپنی بہو زارا کو قتل کیا اور جرم چھپانے کے لیے مقتولہ کے جسم کے سات ٹکڑے کر کے گندے نالے میں بہا دیے۔ بعد ازاں ملزمان نے خود کو بچانے کے لیے زارا کے گھر سے بھاگ جانے کا ڈرامہ رچایا۔
ذرائع کے مطابق واقعہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب کرائم رپورٹر اے ڈی ملک نے لاہور سے ڈسکہ جا کر کیس کی تفصیلات سوشل میڈیا پر وائرل کیں، جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی اور واردات میں ملوث تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں کیس کے چار ملزمان جیل کی کال کوٹھڑی پہنچے۔
کچھ عرصہ قبل دو ملزمان کی ضمانت کی درخواست لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی، جہاں مقتولہ زارا کے کیس کی پیروی معروف وکیل علی حسن جعفری نے کی۔ عدالت میں مضبوط اور مدلل دلائل کے بعد نوید عرف سونی اور عبداللہ کی ضمانتیں خارج کر دی گئیں۔
آج ایک بار پھر زارا کے قتل کی مرکزی ملزمہ یاسمین نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت دائر کی، تاہم ایڈووکیٹ علی حسن جعفری نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت سے بھرپور دلائل دیتے ہوئے مرکزی ملزمہ کی ضمانت بھی خارج کروا دی۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ کیس ابھی اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچا، اور مقتولہ زارا کو مکمل انصاف دلانے کے لیے عوامی آواز اور سماجی دباؤ بدستور ضروری ہے، تاکہ بے رحم قاتلوں کو جلد از جلد کیفرِ کردار تک پہنچایا جا سکے۔


