کوئٹہ(ایچ آراین ڈبلیو)بلوچستان کے ادبی و لسانی اداروں کے عہدیداران پر مشتمل ایک وفد نے چیف آف سراوان نواب اسلم خان رئیسانی اور نوابزادہ لشکری رئیسانی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفد نے بلوچستان کابینہ کی جانب سے پیش کیے گئے بلوچستان ریجنل لینگوئیجز، اکیڈمیز اور لٹریری سوسائٹیز بل 2025 پر شدید تحفظات سے آگاہ کیا۔
وفد کا کہنا تھا کہ لینگوئیجز اور سوسائٹیز ایکٹ کے ذریعے براہوئی سمیت زبان و ادب کے اداروں کو حکومتی تحویل میں لینا نہ صرف ان کی خودمختاری سلب کرنے کے مترادف ہے بلکہ یہ اقدام زبان، ثقافت اور قوموں کے درمیان ہم آہنگی کے بجائے باہمی چپقلش کو بڑھا سکتا ہے۔ وفد نے اس بل کو ادبی اداروں کے لیے غیر قانونی اور نقصان دہ قرار دیا۔
اس موقع پر نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ زبان و ادب کے اداروں کی خودمختاری ختم کرنا قوموں کی شناخت مٹانے کی کوشش کے مترادف ہے، جس کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اسمبلی میں اس بل کے خلاف مؤثر آواز بلند کی جائے گی۔
نوابزادہ لشکری رئیسانی نے بھی وفد کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے قوانین زبان و ثقافت کے فروغ کے بجائے اختلافات کو جنم دیتے ہیں، اس لیے حکومت کو اس پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
ادبی اداروں کے وفد نے دونوں رہنماؤں سے اپیل کی کہ اس بل کو ایکٹ کی شکل دینے سے گریز کیا جائے اور زبان و ادب کے اداروں کی آئینی و انتظامی خودمختاری برقرار رکھی جائے۔


