انڈیا نے مقبوضہ کشمیرکے علاقے پہلگام میں28سیاحوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان کیخلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے واہگہ اٹاری سرحد بند‘سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل کردیا‘پاکستانیوں کے بھارتی ویزے منسوخ ‘ہندوستان میں موجود پاکستانی شہریوں کو 48گھنٹوں میں ملک چھوڑنے کا حکم ‘ نئی دہلی کے پاکستانی ہائی کمیشن میں تمام دفاعی، فوجی، بحری اور فضائی مشیرناپسندیدہ قرار‘سفارتی عملہ محدود اور بھارتی دفاعی اتاشی کو پاکستان سے واپس بلانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے پاکستانیوں کو سارک ویزا معاہدے کے تحت انڈیا کا سفر کرنے کی اجازت بھی نہیں ہوگی”سندھ طاس معاہدہ” (Indus Waters Treaty) ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جو 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا اس معاہدے کے تحت دریائے سندھ کے طاس کے چھ دریاسندھ، جہلم، چناب، راوی، بیاس اور ستلج کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا معاہدے کے مطابق، مشرقی دریا یعنی راوی، بیاس، اور ستلج بھارت کو دیے گئے، جبکہ مغربی دریا یعنی سندھ، جہلم، اور چناب پاکستان کے حصے میں آئے اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کو پرامن طریقے سے طے کرنا تھا تاکہ مستقبل میں کسی قسم کا تنازع نہ ہوسندھ طاس معاہدہ ختم ہونے سے پاکستان کوپاکستان کی زراعت کا دارومدار مغربی دریاو¿ں (سندھ، جہلم، چناب) پر ہے، اگر بھارت پانی روکنے کی کوشش کرے تو پاکستان کو شدید زرعی، صنعتی اور گھریلو پانی کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اور پانی کی کمی سے خوراک کا بحران پیدا ہو سکتا ہے جس سے معیشت مزید کمزور ہو گی پانی پر تنازعہ قومی سلامتی کا مسئلہ بن سکتا ہے جبکہ جنگ کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے جبکہ سندھ طاس معاہدہ ختم ہونے سے بھارت کوبین الاقوامی سطح پر بھارت کو شدید دباو¿ اور تنقید کا سامناکرنا پڑ رہا ہے خاص طور پر چونکہ یہ معاہدہ عالمی بینک کی نگرانی میں ہوا تھااگر پاکستان عالمی عدالت یا اقوام متحدہ میں جائے تو بھارت کو قانونی و سفارتی چیلنجز کا سامنا ہو سکتا ہے خطے میں بھارت کا امیج ایک غیر ذمہ دار ریاست کے طور پر متاثر ہو سکتا ہے بھارت کو اپنے زیرِ کنٹرول دریاو¿ں سے بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لیے زیادہ پانی استعمال کرنے کی آزادی مل سکتی ہے کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اس معاہدے کو دباو¿ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے تاکہ پاکستان پر سیاسی یا سفارتی دباو¿ ڈالا جا سکے جبکہ سندھ طاس معاہدہ کا خاتمہ دونوں ممالک کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ پانی ایک بنیادی ضرورت ہے اور اس کا تنازع خطے میں استحکام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے بہتر یہی ہے کہ دونوں ممالک اس معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور باہمی مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کو ترجیح دیں
76


