عارف حبیب کنسورشیم 135 ارب کی بولی کے ساتھ 75 فیصد شیئرز کا خریدار قرار

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کا تاریخی عمل مکمل ہو گیا، جس میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر ایئر لائن کے 75 فیصد شیئرز حاصل کر لیے۔ قومی ایئر لائن کی نیلامی کا پورا عمل اتوار کو شفاف انداز میں انجام دیا گیا، جسے ملک بھر کے ٹی وی چینلز پر براہِ راست نشر کیا گیا۔

نیلامی کے دوران تین کنسورشیمز کی جانب سے جمع کرائے گئے سیل بند لفافے سب کے سامنے کھولے گئے۔ آخری مرحلے میں عارف حبیب کنسورشیم نے 135 ارب روپے جبکہ مدمقابل لکی کنسورشیم نے 134 ارب روپے کی بولی دی۔ حکومت نے اس عمل کے لیے ریفرنس پرائس 100 ارب روپے مقرر کی تھی۔

“پی آئی اے کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے” — عارف حبیب

نجکاری کے نتائج سامنے آنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عارف حبیب گروپ کے سربراہ عارف حبیب نے اسے “پاکستان کی جیت” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ:

“پی آئی اے کے ملازمین نہایت محنتی، قابل اور تجربہ کار ہیں۔ ان کی پیشہ ورانہ مہارت سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے گا۔”

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت پی آئی اے کے فلیٹ میں 18 سے 19 طیارے موجود ہیں، جن میں سے 13 سے 14 آپریشنل ہیں۔ پہلے مرحلے میں طیاروں کی تعداد بڑھا کر 38 کرنے اور بعدازاں 65 تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ مستقبل میں مسافروں کی طلب کے مطابق فلیٹ میں مزید توسیع بھی کی جائے گی۔

کثیر سرمایہ کاری، بہتر سہولیات اور روزگار کے نئے مواقع

عارف حبیب کے مطابق کنسورشیم ایک سال کے اندر پی آئی اے میں 125 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا، جبکہ طیاروں کی تعداد کو آئندہ مرحلوں میں 62 تک بڑھانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایئر لائن کی توسیع کے ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو بھی تقویت ملے گی۔

فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی کنسورشیم میں شامل

پی آئی اے کی نجکاری کے عمل میں اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی کہ فوجی فرٹیلائزر کمپنی نے عارف حبیب کنسورشیم میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ عارف حبیب نے اس شمولیت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ اشتراک پی آئی اے کو مزید مضبوط بنیاد فراہم کرے گا۔

پہلے مرحلے سے آخری بڈ تک — مکمل شفاف عمل

نجکاری کے پہلے مرحلے میں عارف حبیب گروپ نے 115 ارب روپے، لکی گروپ نے 101 ارب 50 کروڑ روپے جبکہ ایئر بلیو نے 26 ارب 50 کروڑ روپے کی بولی جمع کرائی تھی۔ تاہم آخری مرحلے میں سب سے بڑی بولی نے معاہدہ عارف حبیب کنسورشیم کے نام کر دیا۔

حکومت کے مطابق نیلامی کا مکمل عمل شفاف، بین الاقوامی معیار کے مطابق اور براہِ راست عوام کی موجودگی میں کیا گیا۔

پی آئی اے کی نجکاری کے بعد ایئر لائن کی بحالی، فلیٹ میں توسیع، بہتر سروسز اور انتظامی اصلاحات کے نئے دور کی توقع کی جا رہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں