یومِ انسدادِ بدعنوانی یا یومِ بے شرمی؟ ایک تلخ مگر سچّی بات

ہر سال 9 دسمبر کو پوری دنیا “یومِ انسدادِ بدعنوانی” مناتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق کرپشن صرف پیسہ نہیں کھاتی — یہ قوموں کے مستقبل، اداروں کے اعتماد اور عوام کے حقوق کو نگل جاتی ہے۔ ترقی، انصاف اور جمہوریت کا گلا گھونٹ دیتی ہے۔

مگر سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں واقعی یہ دن منانے کا کوئی اخلاقی، قانونی، یا عملی جواز باقی بھی رہ گیا ہے؟

کیونکہ پاکستان میں جب اربوں روپے کی بدعنوانی کرنے والے ملک کے مالک بن جائیں اور اپنی بدعنوانی کا سامنا کرنے کے بجائے خود کو تحفظ دینے کے لیے دنیا کا انوکھا قانون منظور کرائیں، تو ایسے ملک میں یومِ انسدادِ بدعنوانی منانے کے بجائے “یومِ بے شرمی” منانا زیادہ مناسب ہے۔

دنیا بھر میں بدعنوانی روکنے کے لیے جو اصول طے ہیں، وہ سادہ ہیں: شفافیت، آزاد ادارے، تیز تحقیقات، اور قانون سب کے لیے برابر۔ مگر پاکستان میں یہ تمام اصول اُلٹ دیے گئے۔

پاکستان کی تاریخ میں کئی بار ایسے مواقع آئے جب اربوں کی کرپشن میں نامزد افراد نے براہِ راست ایسے قوانین پاس کروائے جن سے ان کے مقدمات، شواہد، حتیٰ کہ تحقیقات تک کو غیر مؤثر بنا دیا گیا۔

یہ منظر دنیا کے کسی سنجیدہ ملک میں سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ: جسے عدالت میں صفائی دینا ہو، وہ خود بیٹھ کر اپنی رہائی اور چھوٹ کے قوانین بنا لے!

یہ عمل صرف بدعنوانی نہیں —قانون کے منہ پر طمانچہ اور قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی تاریخ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سوئٹزرلینڈ میں خفیہ بینک اکاؤنٹس، سرے محل کی خریداری، آف شور کمپنیاں، پاناما پیپرز اور اس سے جڑے انکشافات، ملکی و غیر ملکی جائیدادیں، ایسی کہانیاں شامل ہیں جنہوں نے پاکستان کی شہرت، معیشت اور اداروں کو گہرا نقصان پہنچایا۔

دنیا میں پاناما پیپرز کے بعد آئس لینڈ کے وزیراعظم نے استعفیٰ دیا، کئی ممالک میں مجرموں کو سزا ہوئی، قوانین سخت ہوئے۔ لیکن پاکستان میں؟ معاملات سیاسی نعروں، تاخیر، عدالتی پیچیدگیوں اور انتظامی کمزوریوں کی نذر ہو گئے۔

گواہوں، تفتیش کاروں، اور افسران کی پراسرار اموات — سوالات جو جواب مانگتے ہیں، پاکستان میں یہ بھی ہوتا ہے کہ جو گواہ بات کرے، گم ہو جائے۔ جو تفتیش جاری رکھے، ٹرانسفر ہو جائے۔ اور جو کیس آگے بڑھائے وہ اچانک “خطرات” میں گھر جائے۔ کیوں ایسے ملک میں یومِ انسدادِ بدعنوانی مذاق لگتا ہے؟

کیونکہ یہاں قانون طاقتور کے لیے نرم، کمزور کے لیے سخت، کرپشن ثابت کرنا مشکل نہیں—ناممکن بنا دیا جاتا ہے، فائلیں دب جاتی ہیں، شواہد غائب ہو جاتے ہیں، ادارے بے اختیار ہو جاتے ہیں اور پھر “احتساب” صرف ایک سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے تو پھر سوال جائز ہے کیا ایسے ملک میں “یومِ انسدادِ بدعنوانی” منانا ہی بدعنوانی نہیں؟

یہ دنیا کی حقیقت ہے کہ کوئی قوم بدعنوانی سے نہیں بڑھی، بلکہ سخت قانون، خوفِ سزا اور زیرو ٹالرنس پالیسی سے بڑھی ہے سنگاپور کی مثال ہمارے سامنے ہے- 1960 کے بعد بدعنوانی کے خلاف سخت ترین قانون بنائے گئے، تیز مقدمات، بھاری جرمانے، فوری سزا کا اطلاق، نتیجہ ،آج دنیا کا سب سے صاف ترین گورننس سسٹم- اس کے بعد ہانگ کانگ کو دیکھ لیں ICAC کا قیام، پولیس، بیوروکریسی، سیاست—کسی کو استثنا نہیں، نتیجہ، پورا معاشرہ بدل گیا-

سب سے بڑھ کر روانڈا کی زریں مثال ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہے، برسوں جنگ سے تباہ ملک رہا پھر وہاں کے حکمران بدلے، زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی اور آج افریقہ میں سب سے تیز ترقی کرنے والا ملک ہے-

نیوزی لینڈ کی مثال سورج کو چراغ دکھلانے کے مترادف ہے ، دنیا کا شفاف ترین ملک، وزراء بھی غلطی کریں تو فوراً استعفیٰ دیتے ہیں، یہی وہ فارمولہ ہے جو تمام کامیاب ممالک میں مشترک ہے
“کسی کے لیے رعایت نہیں—کسی خاندان، کسی جماعت، کسی اشرافیہ کے لیے بھی نہیں۔”

پاکستان میں یومِ انسدادِ بدعنوانی منایا جائے… یہ بات اب طنز سے زیادہ تاریخی ناانصافی لگتی ہے۔ کیونکہ اس ملک کی سیاسست نے صرف ادارے نہیں توڑے، “ریڑھ کی ہڈی تک توڑ دی ہے”—خاص طور پر عدلیہ کی۔

یہ وہی پاکستان ہے جہاں 26ویں آئینی ترمیم نے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج کو چیف جسٹس بننے کا دستوری حق چھین لیا۔ ایک ایسا حق جو ایک صدی پر محیط عدالتی روایت تھا، ایک ایسا اصول جو عدلیہ کی آزادی کی بنیاد تھا—بس ایک ترمیم کے ذریعے ختم کر دیا گیا۔ جج صاحبان کی سینیارٹی کی ترتیب بدل کر، عدالت کی خودمختاری کا چراغ مدھم کر دیا گیا۔

پھر 27ویں ترمیم آئی… جس نے باقی ماندہ سانس بھی کھینچ لی۔ عدلیہ سے سوموٹو کی طاقت واپس لے کر، وہ واحد تلوار بھی چھین لی گئی جس سے دستور کے محافظ طاقتور کے سامنے کھڑے ہوتے تھے۔
سوموٹو… جس نے ایگزیکٹو کے ہاتھوں دبے شہریوں کو آواز دی تھی، جس نے طاقت کے ایوانوں میں لرزہ بٹھایا تھا،آج وہ ایک کاغذ کے پارہ سے زیادہ نہیں رہا۔

عدلیہ کو ایگزیکٹو کے سامنے یوں مفلوج کیا گیا کہ اب چیخ بھی نکلے تو سیاسی ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس عدالت ہی کو زخمی کرتی ہے اور سب سے بڑا حملہ؟ججز کے انتخاب کا اختیار سیاستدانوں کے ہاتھ میں دے دینا—ایسا اختیار جو دنیا کے آئینی ماہرین بھی “عدلیہ کی موت” کہتے ہیں۔

آج پاکستان میں ججز کے چہرے دیکھ کر پہچان لیا جاتا ہے کہ کون کس جماعت کا ہمدرد ہے۔
فیصلے آئینی کم، سیاسی زیادہ لگتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے عدالتیں نہیں، *پارلیمنٹ کی توسیعی شاخیں* ہیں۔ اوپر سےوفاقی سطح سے لے کر صوبائی سطح تک سرکاری وکلا کا ایک پورا لشکر جو سیاسی وفاداری پر تعینات ہے۔ وہ قانون کے نہیں، حکم کے غلام ہیں۔ زیرو میرٹ—صرف سیاسی رنگ۔

وکلا برادری… جو ہر آمریت کے سامنے دیوار بن کر کھڑی ہوتی تھی، وہ بھی تقسیم کر دی گئی۔ حکومت نے ایسا شگاف ڈالا کہ ایک دھڑا لڑ رہا ہےاور دوسرا دھڑا سرکاری تقسیم کی دیگ میں ہاتھ ڈال کر مزے لے رہا ہے۔

پورا نظام—ایگزیکٹو کی مٹھی میں، نظامِ عدل—سہارا ڈھونڈتا ہوا، اور قوم—انصاف کے میدان میں یتیم اور اس بے شرمی کے باوجود، دیکھئے گا، یومِ انسدادِ بدعنوانی پر صدر، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، وزرا سفید کپڑے پہن کر قوم کو شفافیت کے درس دیں گے۔ کیمرے چلیں گے، تقریریں ہوں گی، ٹویٹس آئیں گی،
اور ہر لفظ میں وہ ڈھٹائی ہوگی جو بدعنوانی سے بھی بڑی بدعنوانی ہے۔

یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کا دل چیخ کر کہتا ہے “یہ کیسا جشن ہے جو مجرم منائیں، یہ کیسا دن ہے جو چور منائیں؟ یہ کیسی تقریر ہے جس میں جھوٹ کو سچ سمجھایا جائے؟”

ایسے لمحوں میں شاعر کے دل سے ایسے خونچکاں اشعار پھوٹتے ہیں:

گھر کے چراغ رہزن ہوں، پھر روشنی نہیں رہتی
عدل کے ہاتھ بندھے ہوں، پھر کوئی گواہی نہیں رہتی

ہم تو یہ پوچھتے ہیں تم سے—
کب تک یہ باندھتے رہو گے انصاف کی آنکھوں پر پٹی؟
کب تک عوام کو سخن دے کر، لوٹو گے ملک کی ہستی؟

اور پھر دل کہتا ہے:

اتنی بھی بے شرمی ٹھیک نہیں ہوتی
چور اگر خطبہ دیں تو قوم نہیں ہوتی

پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب نظامِ انصاف پر حملہ ہوتا ہے،تو صرف عدالت کمزور نہیں ہوتی، پورا معاشرہ غلام بن جاتا ہے۔ آزادی کمزور پڑتی ہے، جمہوریت بیمار ہو جاتی ہے اور کرپشن مقدس لکیر بن جاتی ہے۔

اس لیے سوال یہ نہیں کہ ہم یومِ انسدادِ بدعنوانی کیوں مناتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ **ہم بدعنوانی کرنے والوں کو یہ دن کیوں منانے دیتے ہیں؟

یہ ملک بدلے گا…جب عوام ڈرنا چھوڑ دیں گے، وکلا تقسیم ہونا چھوڑ دیں گے، عدلیہ خاموش رہنا چھوڑ دے گی اور حکمران…حساب دینے سے بھاگنا چھوڑ دیں گے۔

اور وہ دن تب آئے گا جب قوم ایک ہی نعرہ بلند کرے گی “ہم وہ لوگ نہیں جو تاریخ کے ہاتھوں شرمندہ ہوں، ہم وہ لوگ بنیں گے جو تاریخ کا رُخ موڑ دیں!”

جب ہم قانون کو سب کے لیے برابر بنائیں، اداروں کو مکمل آزادی دیں، طاقتور کو تحفظ دینے والے قوانین ختم کریں، کرپشن ثابت کرنے کے طریقے آسان اور جدید بنائیں، گواہوں اور تفتیش کاروں کا تحفظ یقینی بنائیں اور سب سے بڑھ کر”جب ہم بدعنوان کو لیڈر ماننا چھوڑ دیں۔”

پاکستان میں بدعنوانی کے خلاف دن منانا ایک مذاق اس لیے لگتا ہے کہ یہاں بدعنوانی روکنے والوں کو نہیں، بدعنوانی کرنے والوں کو قانون سازی کا حق دیا جاتا ہے۔ یہاں کرپٹ افراد کو نہیں، ان کے سوال اٹھانے والوں کو کٹہرے میں لایا جاتا ہے۔ یہاں قوم لوٹنے والوں کو تحفظ دیا جاتا ہے—اور سچ بولنے والوں کو سزا۔

اس حقیقت کے بعد…یومِ انسدادِ بدعنوانی کے بجائے “یومِ بے شرمی” زیادہ موزوں لگتا ہے۔
یہ ملک واقعی “یومِ انسدادِ بدعنوانی” منائے گا، لیکن اس دن جب بدعنوان قانون نہیں بنائیں گے، بلکہ قانون بدعنوانوں کو پکڑے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں