ڈی جی ایس بی سی اےکی شہرت داؤ پر لگ گئی، پڑوس میں غیر قانونی عمارت کی دھڑلے سے تعمیر

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جاری دعووں کے برعکس، خود **ڈی جی ایس بی سی اے مزمل حسین ہالیپوٹو** پر سنگین الزامات سامنے آگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ڈی جی ایس بی سی اے نے **چار کروڑ روپے رشوت** لے کر اپنے ہی پڑوس میں غیر قانونی تعمیرات کی اجازت دے دی۔

گلشن فیصل، باتھ آئی لینڈ کے **پلاٹ نمبر B-96** پر پانچ سو گز کے رہائشی پلاٹ پر غیر قانونی **ایکسٹرا فلورز اور کمرشل یونٹس** کی تعمیرات دن رات جاری ہیں، جہاں ایک بنگلے کی جگہ **12 پورشنز** بنا دیے گئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مبینہ طور پر ڈی جی مزمل ہالیپوٹو کے حکم پر **ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران نے آنکھیں بند کرلیں** اور کارروائی سے گریز کیا۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ کمرشل تعمیرات سے علاقے میں **ہوا، روشنی، گیس، بجلی اور سیوریج کے سنگین مسائل** جنم لے رہے ہیں۔ شہریوں نے مشترکہ طور پر **ڈی جی ایس بی سی اے کو تحریری شکایت** بھی دی، مگر تعمیرات بدستور جاری ہیں۔

میڈیا کی نشاندہی کے باوجود تعمیرات رکنے کے بجائے مزید تیزی سے جاری ہیں۔

رابطہ کرنے پر ڈی جی مزمل ہالیپوٹو نے **الزامات مسترد کرتے ہوئے** کہا کہ *“میڈیا خبروں کا شوق پورا کرلے، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”*

شہریوں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ **غیر قانونی تعمیرات کو فوری طور پر روکا جائے** اور پوش علاقے کی **خوبصورتی و ماحولیاتی توازن** کو بچایا جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں