21

سندھ اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026 منظور، اپوزیشن کا شدید احتجاج

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**سندھ اسمبلی نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم سے متعلق **سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2026ء** کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، تاہم اپوزیشن ارکان نے بل کی منظوری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے اس کی کاپیاں پھاڑ دیں اور ایوان میں نعرے بازی کی۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں وزیر قانون **ضیا الحسن لنجار** نے بلدیاتی قوانین میں ترامیم سے متعلق بل پیش کیا۔ بل پیش ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے احتجاج شروع کر دیا، ایوان میں شور شرابا ہوا اور اپوزیشن ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔

اپوزیشن کی نعرے بازی کے دوران بل پر ووٹنگ ہوئی اور سندھ اسمبلی نے اسے کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔ بعد ازاں اجلاس منگل کو سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

### اپوزیشن کا بل مسترد کرنے کا اعلان

اجلاس کے بعد اپوزیشن ارکان نے بل کی منظوری کو مسترد کرتے ہوئے عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کیا۔

اپوزیشن رکن **شبیر قریشی** نے کہا کہ اپوزیشن لوکل گورنمنٹ بل کو مسترد کرتی ہے اور ان کے بقول ماضی میں بھی بلدیاتی نظام سے متعلق فیصلوں پر تحفظات رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے رکن **محمد فاروق** نے مؤقف اختیار کیا کہ لوکل باڈی ایکٹ میں بلدیاتی اداروں کو مطلوبہ اختیارات نہیں دیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم کے بعد بھی اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مجوزہ ترامیم میں انتخابات نہ ہونے کی صورت میں سیاسی منتخب افراد کے بطور سیاسی ایڈمنسٹریٹر کام کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ محمد فاروق کے مطابق پی ٹی آئی، جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم نے بل کی مخالفت کی ہے اور جماعت اسلامی اس کے خلاف عدالت سے رجوع کرے گی۔

### ایم کیو ایم کا بھی شدید اعتراض

ایم کیو ایم کے قائد حزب اختلاف **علی خورشیدی** نے بل کی منظوری کو ’’سیاسی آمریت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے ایجنڈے کے دیگر معاملات کو ایک طرف رکھ کر اچانک بل منظور کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے مطابق پارلیمان کے اندر اور باہر متعدد سیاسی جماعتیں بل کو مسترد کرتی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ بلدیاتی اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جانے چاہئیں اور حکومت کو عدالتی فیصلوں کی روح کے مطابق قانون سازی کرنی چاہیے۔

ایم کیو ایم کے رکن **افتخار عالم** نے کہا کہ اپوزیشن کے مؤقف کو مناسب طور پر نہیں سنا گیا۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ موجود ہے اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کمیٹی میں بھی احتجاج کیا تھا اور ایوان میں بھی بل کو مسترد کیا ہے۔

### حکومت کا مؤقف

بل کی منظوری کے بعد وزیر قانون **ضیا الحسن لنجار** نے اپوزیشن کے احتجاج کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا کہ بل باقاعدہ جمہوری طریقہ کار کے تحت اسمبلی میں پیش کیا گیا اور اس سلسلے میں خصوصی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی تھی، جس میں ایم کیو ایم، جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے ارکان شامل تھے۔

انہوں نے کہا کہ کمیٹی میں بل کی مختلف شقوں پر بحث ہوئی اور اپوزیشن ارکان نے اپنی تجاویز بھی پیش کیں، جن میں سے بعض تجاویز حکومت نے قبول کیں۔

ضیا لنجار کے مطابق لوکل باڈیز کی مدت مکمل ہونے کی صورت میں حکومت **120 دن قبل الیکشن کمیشن کو خط لکھے گی** جبکہ انتخابات کا شیڈول جاری ہوتے ہی متعلقہ عبوری انتظامی اختیارات ختم ہو جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت لوکل گورنمنٹ کے تسلسل کو برقرار رکھنا چاہتی ہے اور بل میں ڈپٹی میئر اور وائس چیئرمین سمیت متعلقہ عہدیداروں کے اختیارات کا تعین کیا گیا ہے۔

### شرجیل میمن: ہر نظام میں بہتری کی گنجائش ہوتی ہے

وزیر اطلاعات سندھ **شرجیل انعام میمن** نے کہا کہ ہر نظام میں بہتری کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بل میں بعض نئی تجاویز شامل کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دیگر صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے متعدد بار خطوط لکھے گئے، تاہم مختلف صوبوں میں انتخابات کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔

شرجیل میمن نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے میئر کو دیگر بڑے شہروں کے میئرز کے مقابلے میں زیادہ اختیارات حاصل ہیں۔ ان کے مطابق نئے قانون میں **مصالحتی کمیشن** کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے تاکہ چھوٹے نوعیت کے عوامی مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا سکیں۔

## انسانی حقوق اور عوامی مفاد

بلدیاتی نظام براہِ راست شہریوں کی روزمرہ زندگی، پانی، صفائی، سڑکوں، نکاسیٔ آب، بلدیاتی خدمات اور مقامی ترقی سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے بلدیاتی اداروں کو مؤثر، جواب دہ اور بااختیار بنانا عوامی مفاد کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

قانون سازی کے دوران اپوزیشن کی تجاویز، عدالتی فیصلوں اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے متعلق آئینی اصولوں کو شفاف انداز میں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کو پارلیمانی بحث، کمیٹی کے عمل اور قانونی و آئینی ذرائع سے حل کیا جانا چاہیے تاکہ بلدیاتی نظام سیاسی کشمکش کے بجائے شہریوں کی مؤثر خدمت کا ذریعہ بن سکے۔

## HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، جمہوری اقدار، عوامی مفاد اور شہری مسائل کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

## Disclaimer

یہ خبر سندھ اسمبلی میں ہونے والی کارروائی اور حکومت و اپوزیشن کے فراہم کردہ مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ خبر میں شامل سیاسی الزامات اور دعوے متعلقہ فریقین کے مؤقف ہیں، جنہیں حتمی عدالتی یا قانونی حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ قانون کی تشریح اور اس کی آئینی حیثیت سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی و عدالتی فورمز ہی کر سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں