19

حاجی مستان: ایک معمولی مزدور سے ممبئی کی اسمگلنگ دنیا کے بااثر کردار تک

ممبئی (HRNW): حاجی مستان، جن کا اصل نام مستان حیدر مرزا تھا، بھارت کی تاریخ میں اسمگلنگ اور ممبئی کے انڈرورلڈ سے جڑے معروف ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کے بارے میں کئی فلمی اور انڈرورلڈ روایات مشہور ہیں، تاہم ہر واقعے کی تاریخی طور پر یکساں تصدیق نہیں ہوتی۔

ایک غریب لڑکا ممبئی پہنچا

مستان حیدر مرزا 1926ء میں موجودہ بھارتی ریاست تمل ناڈو کے علاقے راماناتھاپورم میں ایک تمل مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ کم عمری میں وہ اپنے والد کے ساتھ بمبئی، جو آج ممبئی کہلاتا ہے، منتقل ہو گئے۔

ابتدائی زندگی میں مستان نے عام مزدوری سمیت مختلف کام کیے اور ممبئی کی بندرگاہ کے آس پاس روزگار حاصل کیا۔ یہی بندرگاہ آگے چل کر ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔

بندرگاہ سے اسمگلنگ کی دنیا تک

بمبئی کی بندرگاہ پر کام کے دوران مستان کو بیرونِ ملک سے آنے والے سامان، کسٹمز کے نظام اور بندرگاہی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئیں۔ بعد ازاں وہ غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کے کاروبار سے منسلک ہو گئے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان کا نام مبینہ طور پر سونے، الیکٹرانکس اور دیگر درآمدی اشیا کی غیر قانونی ترسیل سے جوڑا جانے لگا۔ ان سرگرمیوں نے انہیں ممبئی کی زیرِ زمین معیشت میں نمایاں مقام دلایا اور وہ رفتہ رفتہ ایک بااثر کاروباری شخصیت کے طور پر بھی سامنے آئے۔

مستان کے بارے میں مشہور کہانیوں میں ان کی دولت، سیاسی و سماجی روابط اور ممبئی کے دیگر جرائم پیشہ عناصر سے تعلقات کے متعدد دعوے شامل ہیں، تاہم ان میں سے بعض روایات کی آزادانہ تاریخی تصدیق مشکل ہے۔

HRNW کی اپیل:
آزاد، ذمہ دار اور تحقیق پر مبنی صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دیں۔ HRNW کی معاونت کے لیے وزٹ کریں: https://www.hrnww.com/?page_id=1083

ڈسکلیمر:
یہ مضمون حاجی مستان سے متعلق دستیاب تاریخی معلومات اور معروف روایات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ ان کی زندگی کے بعض واقعات کے بارے میں مختلف دعوے اور غیر مصدقہ قصے موجود ہیں، اس لیے غیر ثابت شدہ روایات کو حتمی تاریخی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں