**واشنگٹن — (ایچ آراین ڈبلیو)**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس اور ایران سے متعلق پابندیوں کے نئے قانون پر دستخط کردیئے ہیں، جس کے تحت روسی تیل اور گیس کے بڑے خریدار ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کا اختیار امریکی صدر کو حاصل ہوگیا ہے۔
رائٹرز کے مطابق قانون کے تحت روسی خام تیل یا قدرتی گیس کے پانچ بڑے خریدار ممالک سے امریکا درآمد ہونے والی اشیا پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جاسکتا ہے۔ ایسے اقدامات قانون کے نفاذ کے بعد 30 دن کے اندر کیے جاسکتے ہیں۔
چین اور بھارت روسی توانائی کے بڑے خریداروں میں شامل ہیں، تاہم قانون میں ان دونوں ممالک پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ ان ممالک کو ممکنہ طور پر اس قانون کے تحت اضافی امریکی تجارتی محصولات کا سامنا ہوسکتا ہے، جبکہ حتمی فیصلہ امریکی انتظامیہ کی جانب سے کیا جائے گا۔
نئے قانون کے تحت ایسے ممالک بھی ممکنہ پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں جو قانون کے نفاذ کے بعد روس سے تیل یا گیس کی نئی خریداری جاری رکھتے ہیں یا روس پر عائد پابندیوں سے بچنے میں مدد دینے والے بڑے ممالک میں شمار ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق قانون روس کے توانائی اور دفاعی شعبوں، روسی حکام اور مالیاتی اداروں کے علاوہ تیل کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والے نام نہاد ’شیڈو فلیٹ‘ کو بھی ہدف بناتا ہے۔
بھارت پہلے ہی خبردار کرچکا ہے کہ روسی تیل کی خریداری پر ممکنہ امریکی محصولات سے دوطرفہ تعلقات اور عالمی توانائی کی منڈی متاثر ہوسکتی ہے، جبکہ نئی دہلی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مختلف ذرائع سے تیل حاصل کرتا رہے گا۔
## انسانی حقوق اور عوامی مفاد
بین الاقوامی تجارتی پابندیوں اور اضافی ٹیرف کے اثرات صرف حکومتوں اور کاروباری اداروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ توانائی، درآمدی اشیا، روزگار اور صارفین کی قیمتوں پر بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ ایسے اقدامات میں عام شہریوں کی معاشی ضروریات اور عالمی توانائی کے استحکام کو مدنظر رکھنا اہم ہے۔
عالمی سطح پر تجارتی کشیدگی میں اضافے سے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں پر بھی بالواسطہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس لیے متعلقہ ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی مذاکرات کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
## HRNW Support Appeal
انسانی حقوق، عوامی مسائل اور مستند خبروں کی آزادانہ کوریج کے لیے HRNW کی معاونت کریں۔
[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
## Disclaimer
یہ خبر امریکی قانون اور دستیاب بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ 100 فیصد ٹیرف سے متعلق خبر میں یہ واضح رہے کہ یہ شرح **ممکنہ زیادہ سے زیادہ اضافی ٹیرف** ہے؛ چین یا بھارت پر اس شرح کا فوری نفاذ لازمی طور پر نہیں ہوا۔ حتمی ٹیرف، متعلقہ ممالک اور نفاذ کی تاریخ امریکی انتظامیہ کے آئندہ فیصلوں پر منحصر ہے۔


