23

میر رضا کے کرپٹو اکاؤنٹ میں کروڑوں کی ٹریڈنگ، ساڑھے 3 کروڑ سے زائد نقصان کا انکشاف

**کراچی — (ایچ آراین ڈبلیو)**کراچی کے نوجوان تاجر **میر رضا** کے قتل اور اغوا کی تحقیقات میں کرپٹو کرنسی سے متعلق اہم مالی تفصیلات سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق **نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)** نے میر رضا کے بائنانس اکاؤنٹ کا ڈیٹا حاصل کرکے جوڈیشل کمیشن اور تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق میر رضا نے بائنانس اکاؤنٹ **2021** میں بنایا تھا، جبکہ اس اکاؤنٹ پر **جولائی 2025 سے جولائی 2026** تک کرپٹو ٹریڈنگ کی گئی۔ مالی ریکارڈ کے مطابق اکاؤنٹ میں آنے والی رقوم کا ایک بڑا حصہ فیوچرز ٹریڈنگ میں منتقل کیا گیا۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق بائنانس اکاؤنٹ سے **6 کروڑ 20 لاکھ روپے سے زائد** کی خریداری ہوئی، جس میں **2 کروڑ 70 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے یو ایس ڈی ٹی** بھی شامل تھے، جبکہ پی ٹو پی خرید و فروخت کا مجموعی حجم **8 کروڑ 90 لاکھ روپے سے تجاوز** کرگیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یو ایس ڈی ٹی کی بیشتر خریداری پی ٹو پی اکاؤنٹس کے ذریعے ہوئی اور ادائیگیاں مختلف اکاؤنٹس سے کی گئیں۔ ریکارڈ کے مطابق فیوچرز ٹریڈنگ میں **ساڑھے 3 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان** بھی ہوا۔

مالی ریکارڈ کے مطابق بائنانس اکاؤنٹ میں **14 ہزار 450 یو ایس ڈی ٹی** جمع کیے گئے، جبکہ اکاؤنٹ سے **11 ہزار 684 یو ایس ڈی ٹی** نکلوائے گئے۔

ڈیجیٹل تحقیقات کے دوران تین اہم کاؤنٹر پارٹیز بھی سامنے آنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق ان تینوں کاؤنٹر پارٹیز کے ساتھ مجموعی طور پر **84 خریداریوں میں ایک لاکھ 40 ہزار 721 یو ایس ڈی ٹی** کا لین دین ہوا، جبکہ فروخت کی **11 ٹرانزیکشنز میں 21 ہزار 467 یو ایس ڈی ٹی** شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق پہلی کاؤنٹر پارٹی کے ساتھ 42 خریداریوں میں **71 ہزار 600 یو ایس ڈی ٹی**، دوسری کے ساتھ 24 خریداریوں میں **48 ہزار 115 یو ایس ڈی ٹی** جبکہ تیسری کے ساتھ 18 خریداریوں میں **21 ہزار 6 یو ایس ڈی ٹی** کا لین دین ہوا۔

ریکارڈ کے مطابق **6 اپریل 2026** کو بی ایس سی نیٹ ورک کے ذریعے **10 ہزار یو ایس ڈی ٹی** منتقل کیے گئے، جبکہ **15 مئی 2026** کو ٹرون نیٹ ورک کے ذریعے **13 ہزار 837 یو ایس ڈی ٹی** کی ٹرانزیکشن ہوئی۔ فروری سے اپریل 2026 کے دوران ایک کاؤنٹر پارٹی کو تین ٹرانزیکشنز میں **ایک ہزار 50 یو ایس ڈی ٹی** بھی منتقل کیے گئے۔

تحقیقات میں اب اہم سوال یہ ہے کہ ان بائنانس آئی ڈیز، کاؤنٹر پارٹیز اور رقم وصول کرنے والے افراد یا اکاؤنٹس کی اصل شناخت کیا ہے اور آیا ان مالی لین دین کا میر رضا کے قتل اور اغوا کے معاملے سے کوئی تعلق بنتا ہے یا نہیں۔

ذرائع کے مطابق این سی سی آئی اے کی جانب سے بائنانس اور کرپٹو سے متعلق معلومات حاصل کرنے کا مقصد ممکنہ **مالی تنازع، بھاری نقصان یا خرد برد** کے کسی کردار کا تعین کرنا ہے۔ پولیس اور دیگر تحقیقاتی ادارے ڈیجیٹل مالی ریکارڈ کو قتل کیس میں سامنے آنے والے دیگر شواہد کے ساتھ ملا کر جائزہ لے رہے ہیں۔

اس سے قبل میر رضا کے کاروباری ساتھی **احمد بھردے** نے جوڈیشل کمیشن کے سامنے بیان دیا تھا کہ میر رضا 20 سے 30 لاکھ روپے مالیت کی کرپٹو ٹریڈنگ میں ملوث تھے اور انہیں اس کاروبار میں نقصان بھی ہوا تھا۔ تفتیش کے دوران یہ مؤقف بھی سامنے آیا کہ میر رضا اپنے آخری دنوں میں کرپٹو مارکیٹ کے نفع و نقصان کے باعث پریشان تھے اور **مجتبیٰ** نامی شخص سے مسلسل رابطے میں تھے۔

تحقیقاتی ادارے اب کرپٹو ٹریڈنگ کے مالی ریکارڈ، کاؤنٹر پارٹیز، رقم کی منتقلی اور دیگر شواہد کو آپس میں ملا کر یہ معلوم کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ آیا مالی معاملات نے میر رضا کے قتل اور اغوا میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد

قتل اور اغوا جیسے سنگین مقدمات میں ڈیجیٹل اور مالی شواہد اہمیت رکھتے ہیں، تاہم کسی مالی لین دین، کرپٹو اکاؤنٹ یا کاؤنٹر پارٹی کی موجودگی کو محض بنیاد پر جرم یا قتل سے تعلق کا حتمی ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تمام شواہد کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور متعلقہ افراد کے قانونی حقوق اور منصفانہ سماعت کے تقاضے برقرار رہیں۔

### HRNW Support Appeal

انسانی حقوق، عوامی مفاد اور آزاد صحافتی رپورٹنگ کے فروغ کے لیے HRNW کی معاونت کریں:

[HRNW Support Appeal](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر فراہم کردہ معلومات، ذرائع سے منسوب دعووں اور تحقیقاتی تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کرپٹو ٹریڈنگ، مالی نقصان یا کسی کاؤنٹر پارٹی کا میر رضا کے قتل و اغوا سے تعلق ابھی حتمی طور پر ثابت نہیں ہوا۔ حتمی نتائج متعلقہ تحقیقاتی اداروں اور عدالت کے سامنے پیش ہونے والے شواہد کی بنیاد پر طے ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں