7

انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کیس میں اہم پیش رفت

اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)انسانی اعضاء کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری کے انکشاف کے بعد تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ عدالت نے گرفتار پانچ ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈیوٹی مجسٹریٹ نے تین چینی اور دو پاکستانی ملزمان کا جسمانی ریمانڈ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے حوالے کرتے ہوئے انہیں مزید تفتیش کے لیے تحویل میں دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ ملزمان کو آئندہ سماعت پر پیر کے روز دوبارہ پیش کیا جائے۔

ابتدائی تفتیش کے دوران ایف آئی اے اور ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ اتھارٹی (HOTA) نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے اسلام آباد کے سیکٹر E-11 میں ایک اور مقام پر چھاپہ مارا، جہاں سے بڑی مقدار میں مبینہ طور پر انسانی اعضاء، خصوصاً پلیسینٹا (Placenta) برآمد کیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ برآمد ہونے والے پلیسینٹا کو پراسیس کرکے ریفریجریٹرز میں محفوظ رکھا گیا تھا، جبکہ موقع سے پلیسینٹا سے بھرے درجنوں کنٹینرز بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

چھاپے کے دوران مزید دو پاکستانی ورکرز امجد اقبال اور محمد ناصر کو بھی حراست میں لے لیا گیا، جن سے تفتیش جاری ہے۔

ذرائع کے مطابق اس کیس کا مقدمہ ایف آئی اے کے کارپوریٹ کرائم سرکل اسلام آباد میں درج کیا گیا ہے، جو HOTA کی ایڈمن آفیسر حنا کنول کی درخواست پر قائم کیا گیا۔

مزید تحقیقات کے لیے ایف آئی اے نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر عمر ارسلان کی سربراہی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے، جس میں سب انسپکٹر کاشف سعید، سب انسپکٹر محمد جنید اور سب انسپکٹر تابش شامل ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق مبینہ طور پر تیار کی جانے والی مصنوعات “She Placenta” کے نام سے بیرونِ ملک، خصوصاً ویتنام برآمد کی جاتی تھیں۔

واضح رہے کہ ایف آئی اے نے ایک روز قبل اسلام آباد کے سیکٹر F-7/1 میں کارروائی کرتے ہوئے پانچ ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جن میں تین چینی اور دو پاکستانی شہری شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کے مختلف پہلوؤں پر تحقیقات جاری ہیں اور مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں