اسلام آباد(ایچ آراین ڈبلیو)سوشل میڈیا پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محمد آصف سے متعلق بعض دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں شاہراہِ دستور پر ایک مبینہ ٹریفک حادثے اور اس سے جڑی شکایت کے بارے میں مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔
قانونی و سرکاری ذرائع کے مطابق اس معاملے پر کوئی حتمی عدالتی فیصلہ یا مستند تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کی گئیں۔ سپریم جوڈیشل کونسل کے دائرہ اختیار، کارروائی اور فیصلوں سے متعلق معلومات صرف باضابطہ اعلامیوں یا عدالتی دستاویزات کے ذریعے ہی مستند سمجھی جاتی ہیں۔
ماہرینِ قانون کا کہنا ہے کہ زیرِ سماعت یا غیر مصدقہ معاملات پر قیاس آرائیاں اور الزامات لگانا مناسب نہیں، جبکہ کسی بھی واقعے سے متعلق ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات اور عدالتی فیصلے کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔
حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں پر یقین کرنے یا انہیں پھیلانے سے گریز کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر انحصار کریں۔ مزید پیش رفت کی صورت میں متعلقہ اداروں کی جانب سے باضابطہ موقف سامنے آنے پر آگاہ کیا جائے گا۔


