لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے دوران تفتیشی افسر نے مؤقف اختیار کیا کہ نو اور دس محرم کی وجہ سے تفتیش مکمل نہیں ہو سکی، اس لیے مزید ریمانڈ درکار ہے۔ تفتیشی افسر کے مطابق مفرور ملزم کی گرفتاری کے لیے متعدد چھاپے مارے گئے، تاہم تاحال گرفتاری عمل میں نہیں آ سکی۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سی ایم آئی ٹی انکوائری کو بھی سیکنڈ کیا گیا ہے، جبکہ مزید ریکارڈ منگوایا گیا ہے جو پیر کے روز موصول ہوگا۔ ان کے مطابق ملزم نے اپنی والدہ، اہلیہ اور بینک اکاؤنٹس سے متعلق مکمل معلومات فراہم نہیں کیں۔
اس پر عدالت نے سوال اٹھایا کہ ملزم کا بیان ریکارڈ کا حصہ کیوں نہیں بنایا گیا اور آیا اب تک کی گئی کارروائی کو مکمل تفتیش کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ملزم کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔
ملزم ضمیر عباسی نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنا بیان قلم بند کرا دیا ہے اور تمام مطلوبہ ریکارڈ خود فراہم کیا ہے، جن میں ایف بی آر کا ریکارڈ بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے والدہ اور اہلیہ کے نام بھی فراہم کیے ہیں۔
ملزم کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ اینٹی کرپشن نے ملزم کا نام ریکارڈ میں شامل کر لیا ہے، تاہم یہ واضح کیا جائے کہ ملزم کے خلاف کیا شواہد حاصل کیے گئے ہیں، خصوصاً ساڑھے آٹھ ارب روپے کے مبینہ منافع سے متعلق کیا ریکارڈ موجود ہے۔ وکیل نے عبوری پیش رفت رپورٹ کی تفصیلات بھی طلب کیں۔
سماعت کے دوران ملزم نے مزید کہا کہ ورلڈ بینک کی جانب سے ڈسبرسمنٹ بڑھانے سے متعلق ہدایات دی گئی تھیں، جبکہ پروجیکٹ کے کنسلٹنٹ سے متعلق بھی اعتراضات اٹھائے۔ ملزم نے عدالت سے سوال کیا کہ جب تک تفتیش مکمل نہیں ہوتی، کیا انہیں حراست میں رکھا جائے گا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی، جبکہ تفتیشی افسر کو ہدایت کی گئی کہ آئندہ پیشی پر مکمل ریکارڈ اور پیش رفت رپورٹ پیش کی جائے۔


