اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) تحریک لبیک پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے آج اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں مسلسل تاخیر کے خلاف الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سیکریٹری عمر احمد خان کی قیادت میں الیکشن کمیشن کے اعلیٰ سطحی وفد سے اسلام آباد میں اہم ملاقات کی۔ وفد کی قیادت مرکزی رکنِ شوریٰ و لیگل ایڈوائزر چوہدری رضوان احمد سیفی نے کی، جبکہ وفد میں مرکزی رکنِ شوریٰ سید جیلان شاہ، پنجاب الیکشن ہیڈ بلال قادری، اور نائب ناظمِ اعلیٰ اسلام آباد زون راجہ عامر شہزاد شامل تھے۔ تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن کمیشن کے حکام کو باور کرایا کہ بلدیاتی انتخابات میں 5 سال کی تاخیر وفاقی و صوبائی حکومتوں کا دانستہ مجرمانہ اقدام ہے، جس کے ذریعے عوامی نمائندگی کی نچلی سطح پر منتقلی کو روک کر اختیارات مرکز میں مرتکز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ اقدام عوام کو ان کے آئینی و جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کے مترادف ہے۔ الیکشن کمیشن کے حکام نے وفد کو بتایا کہ کمیشن ہر وقت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل تیار ہے، تاہم حکومت کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے اور تکنیکی حیلہ سازیوں کے باعث بروقت الیکشن کے انعقاد میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ تحریک لبیک پاکستان نے اس ملاقات میں حلقہ بندیوں کے معاملے پر بھی اپنے تحفظات بھرپور انداز میں پیش کیے اور مطالبہ کیا کہ الیکشن کمیشن حکومت کی طرف سے کسی بھی غیر آئینی و غیر قانونی مداخلت کو روکنے کی مؤثر حکمتِ عملی اختیار کرے تاکہ حلقہ بندیاں زمینی حقائق کی بنیاد پر اور شفاف طریقے سے تشکیل دی جا سکیں۔ ملاقات کے دوران تحریک لبیک پاکستان کی طرف سے ایک جامع، اصولی اور مدلل انتخابی اصلاحاتی تجاویزنامہ تحریری صورت میں الیکشن کمیشن کو پیش کیا گیا، جس میں ان تمام انتخابی بے ضابطگیوں کو شامل کیا گیا ہے جو ماضی کے انتخابات میں تسلسل کے ساتھ ریکارڈ کی گئی ہیں۔ چوہدری رضوان احمد سیفی نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان خلاف ورزیوں میں پولنگ ایجنٹس کو زبردستی پولنگ اسٹیشنز سے نکال دینا، بیلٹ بکسوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ، فارم 45 میں رد و بدل، اور گنتی کے عمل کے دوران نمائندوں کو باہر نکال دینا جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک لبیک نے تجویز پیش کی ہے کہ ان جرائم کو سخت فوجداری سزاؤں سے مشروط کیا جائے، جن میں جعلی ووٹ یا فارم میں چھیڑ چھاڑ پر پانچ سال قید، بیس لاکھ روپے جرمانہ اور تاحیات عوامی عہدے کے لیے نااہلی شامل ہو۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ پولنگ ایجنٹس کی موجودگی کو قانونی تحفظ دیا جائے، اور اگر کسی بھی مرحلے پر وہ موجود نہ ہوں تو متعلقہ انتخابی عمل کو کالعدم قرار دیا جائے۔ تحریک لبیک پاکستان نے انتخابات میں نتائج کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بلاک چین پر مبنی نتائج کے تحفظاتی نظام کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس کے تحت فارم 45 کی تصویر، پولنگ ایجنٹس کے دستخط، بیلٹ بکس کی مہر اور مقام و وقت کا ریکارڈ ناقابلِ ترمیم صورت میں محفوظ کیا جائے۔ اگر بلاک چین نظام فی الحال نافذ نہ ہو سکے تو متبادل کے طور پر ہر فارم 45 میں ٹوٹل ووٹوں کی عددی اور تحریری صورت میں تفصیل شامل کرنا لازم قرار دیا جائے تاکہ جعل سازی کی ہر کوشش کا قبل از وقت پتہ چلایا جا سکے۔ تحریک لبیک پاکستان کے وفد نے انتخابی ایکٹ میں ترمیم، انتخابی ٹربیونلز کے فیصلے کی مدت چودہ دن مقرر کرنے، شفاف اور غیر جانبدار تقرریوں، عدالتی نگرانی، الیکشن کمیشن کی مالی و انتظامی خودمختاری، اور عملے کی جامع تربیت جیسے بنیادی نکات کو بھی زور دے کر پیش کیا۔ آخر میں تحریک لبیک پاکستان نے الیکشن کمیشن سے پرزور مطالبہ کیا کہ انتخابات کا عمل اور نتائج کا اعلان پولنگ کی تاریخ ہی کے اندر مکمل کروایا جائے تاکہ قومی سطح پر انتخابی سرگرمیوں کو شفاف، بروقت اور نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ جب نتائج میں غیر ضروری تاخیر ہوتی ہے تو نہ صرف شفافیت مشکوک ہو جاتی ہے بلکہ عوامی اعتماد مجروح ہوتا ہے، اور بعض اوقات یہ تاخیر انتخابی مینڈیٹ کو ہی متنازعہ بنا دیتی ہے۔


