بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مبینہ کرپشن، سرکاری بنگلے کی فروخت کی تیاری پر سنگین الزامات

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)ذرائع کےمطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی میں مبینہ طورپراندھیرنگری چوپٹ راج قائم ہو چکا ہے اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے دور میں سرکاری زمینوں، بنگلوں، آکٹرائے چوکیوں اور قیمتی پلاٹس کی تیزی سے بندر بانٹ کی جا رہی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ تقریباً 52 سال بعد KMC کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت سے پانچ ارب روپے مالیت کے تیسرے سرکاری بنگلے کو ایک نام نہاد بلڈر کے حوالے کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ وہی بنگلہ ہے جسے سابق ایڈمنسٹریٹر KMC فہیم الزماں خان کے دور میں انڈور گیمز کمپلیکس کے لیے مختص کیا گیا تھا۔

ذرائع کے مطابق موجودہ انتظامیہ اس قیمتی سرکاری اثاثے کو اونے پونے داموں فروخت کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ بنگلے کے ساتھ تین ہزار اسکوائر یارڈ زمین میں مبینہ طور پر سڑک کی فلاحی زمین بھی شامل کر لی گئی ہے۔انکشاف کیا گیا ہے کہ لینڈ ڈپارٹمنٹ کے کئی افسران اس معاملے میں کٹہرے میں آ سکتے ہیں، تاہم تاحال نہ تو کوئی مؤثر کارروائی ہوئی ہے اور نہ ہی بروقت تحقیقات شروع کی گئیں، جس سے شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں کہ پلاٹ کو خاموشی سے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے درخواست گزار بلڈر کی جانب سے پیش کردہ کاغذات کی بنیاد پر KMC کے خلاف فیصلہ دیا، تاہم بعد میں KMC نے اپنی ساکھ بچانے کے لیے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے، جو اس وقت زیر سماعت ہے۔تحقیقات کے لیے KMC کی جانب سے تین رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں سینئر ڈائریکٹر ہیومن ریسورسز، ڈائریکٹر لینڈ اور ڈائریکٹر قانون شامل ہیں۔ کمیٹی کو ابتدائی تحقیقات میں 1969 کی کونسل قرارداد کے تحت زمین کے اصل کاغذات بھی مل گئے ہیں، جن سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ اراضی KMC کے مقاصد کے لیے مخصوص تھی اور کسی فرد یا ادارے کو الاٹ نہیں کی جا سکتی تھی۔

ذرائع کے مطابق شہر میں سرکاری زمینوں پر قبضے اور فروخت کے یہ واقعات عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں، جبکہ شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں