کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کراچی ڈویژن کے جنرل سیکرٹری ارسلان خالد نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے میں مسلسل تاخیر، لاگت میں اضافے اور ناقص کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔کراچی میں منصوبے کے دورے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2022 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ 2024 میں مکمل ہونا تھا، تاہم 2026 تک بھی یہ مکمل نہیں ہو سکا، جو متعلقہ اداروں کی سنگین نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔
ارسلان خالد کے مطابق منصوبے کی ابتدائی لاگت 79 ارب روپے تھی جو بعد میں بڑھ کر 103 ارب روپے تک پہنچی اور اب یہ 140 ارب روپے سے بھی تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اضافی اربوں روپے کہاں خرچ ہوئے اور اس کی شفاف وضاحت عوام کے سامنے آنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر جاری کھدائی کے باعث ٹریفک نظام شدید متاثر ہے، جس سے طلبہ، کاروباری افراد اور عام شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق علاقے میں کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں اور شہریوں کی روزمرہ زندگی بری طرح درہم برہم ہو چکی ہے۔
ارسلان خالد نے مزید کہا کہ منصوبے میں کنٹریکٹر کے ساتھ مالی اور تکنیکی تنازعات کے باعث کام کئی ماہ تک رکا رہا، جبکہ ایک حصے کا کنٹریکٹ ناقص کارکردگی پر ختم بھی کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے بھی منصوبے کے معیار، رفتار اور سیفٹی پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ ریڈ لائن منصوبے کی فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کی جائے اور ذمہ دار افراد کو عوام کے سامنے لایا جائے۔


