زندہ قومیں کتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہیں،پاسبان

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کےجنرل سیکریٹری اقبال ہاشمی نےکتابوں کےعالمی دن پرعلم، شعور اور مطالعہ کی اہمیت کواجاگرکرتےہوئےکہاہےکہ زندہ قومیں وہی ہوتی ہیں جوکتاب سے اپنا رشتہ مضبوط رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں مطالعہ کا رجحان تیزی سے کم ہو رہا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ مہنگی کتابیں، ناقص تعلیمی نظام اور حکومتی عدم توجہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتاب انسان کوشعور،فکراورسچائی کی پہچان دیتی ہے، مگر ہمارے تعلیمی اداروں میں کتاب کو محض امتحان پاس کرنے کا ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں مطالعے کے شوق کو فروغ دیا جائے کیونکہ مطالعہ کتب جہالت اور انتہا پسندی کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ جن قوموں نے ترقی کی ہے وہاں مطالعہ کتب کو فروغ دیا گیا ہے۔ نوجوانوں کو زندگی میں ربط تلاش کرنا ہے تو مطالعہ کتب کو اپنائیں۔ نصاب تعلیم ایسے ڈیزائن کیا جائے جس میں زیادہ سے زیادہ مطالعہ کتب ممکن ہو سکے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی کتابیں اردو زبان میں منتقل کی جائیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں لوگ دوران سفر کتب بینی کرتے ہیں۔ قومی زبان میں تعلیم دی جائے تو مطالعہ کا رجحان بڑھتا ہے۔ ملک میں لائیبریری اور الیکٹرانک مطالعاتی مواد کا جال بچھایا جائے۔ لغو ٹیلی ویژن پروگراموں کے بجائے ایسے مقابلے منعقد کئے جائیں جس سے نوجوانوں میں مطالعےکےذوق وشوق میں اضافہ ہو۔ کتابوں کی قیمتوں میں کمی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ تعلیمی اداروں میں مطالعہ کلچر کو فروغ دینے کے لیے خصوصی پروگرامز شروع کیے جائیں۔ اقبال ہاشمی نے مزید کہا کہ آج کے دن کا تقاضا ہے کہ ہم نئی نسل میں کتاب دوستی کوفروغ دیں اورانہیں سوشل میڈیا کی سطحی معلومات کےبجائےسنجیدہ مطالعہ کی طرف راغب کریں۔

والدین،اساتذہ اورحکومت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ بچوں کو کتابوں سے جوڑا جائے تاکہ ایک باشعور اور ترقی یافتہ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔ادب اور تاریخ کے مطالعے کے بغیر شخصیت کی تکمیل نہیں ہوتی ہے۔ ہندوستان، امریکہ، تھائی لینڈ اور چائنا دنیا میں سب سے زیادہ کتابیں پڑھنےوالےممالک ہیں اوران کی ٹیکنالوجی کےمیدان میں مسابقت کا سبب بھی یہی ہے۔ پاکستان کا شمار کم ترین کتب بینی کرنے والے ممالک میں ہوتا ہے۔ بنگلہ دیش، افغانستان، پاکستان، نائجیریا اور خلیجی ممالک میں کتب بینی کا اوسط کم ترین سطح پر ہے اور ان کی تکنیکی ترقی اور معاشی خود انحصاری کے فقدان کا سبب بھی یہی ہے۔ انسانوں کو موبائل فون کی اسیری سے بچانے کیلئے دن کا کچھ وقت مطالعے کے لیے مختص کیا جانا چاہئے-

اپنا تبصرہ بھیجیں