کراچی(ایچ آراین ڈبلیو)کراچی ریسٹوریشن موومنٹ کے چیئرمین اشرف جبار قریشی کی زیر صدارت منعقدہ “فکرِ کراچی” نشست کے بعد شہر کی موجودہ صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔نشست سے خطاب کرتے ہوئے اشرف جبار قریشی نے کہا کہ کراچی اس وقت بدترین بدامنی، بدانتظامی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے، جہاں شہریوں کی جان و مال محفوظ نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں ڈمپرز اور ہیوی ٹریفک کے باعث روزانہ قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ مٹی کے ڈھیر اور غیر محفوظ ترقیاتی کام شہریوں کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات نے شہریوں میں خوف و ہراس مزید بڑھا دیا ہے۔
اشرف جبار قریشی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ عرصے میں مسلح ڈاکوؤں کی کھلے عام لوٹ مار کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے خصوصاً کے ایم سی اور میئر کراچی شہر میں کرپشن روکنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ ان کے مطابق مختلف محکموں میں مالی بے ضابطگیوں کے باعث نیب کی جانب سے انکوائریوں کا آغاز اس بات کا ثبوت ہے کہ بڑے پیمانے پر بدعنوانی موجود ہے۔
انہوں نے موجودہ صورتحال کو “بدترین گورننس” قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی کو دانستہ طور پر مسائل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
اشرف جبار قریشی نے اعلان کیا کہ “فکرِ کراچی” نشست کے بعد کراچی ریسٹوریشن موومنٹ نے عملی طور پر میدان میں اترنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہ تحریک ہر شہری کی آواز بن کر ان کے حقوق کے لیے جدوجہد کرے گی۔
آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ شہر میں امن و امان بہتر بنایا جائے، ہیوی ٹریفک کو کنٹرول کیا جائے، کرپٹ عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہو اور کراچی کے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔


