جہیز کے دعوے پر ٹرائل روکنے کی درخواست، خاتون کی تذلیل پر لاہور ہائیکورٹ کے سخت ریمارکس

لاہور(ایچ آراین ڈبلیو)لاہور ہائیکورٹ میں سامانِ جہیز کے دعوے میں فیملی کورٹ کی ٹرائل کارروائی روکنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے اہم اور سخت ریمارکس دیے۔سماعت کے دوران معزز جج جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ“ایک عورت کی اور کتنی تذلیل کرنی ہے؟ ایک عورت کو اور کتنی سزا دینا چاہتے ہیں؟ اگر اس کی شادی نہیں چل سکی تو اس کی کتنی کڑی سزا دینا چاہتے ہیں؟”

عدالت نے وکیلِ درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ“آپ نے فیس لے لی ہے، اب آپ پر فرض عائد ہوتا ہے کہ معاملے کو حل کرائیں۔ بطور وکیل آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ تنازع کو سلجھا سکیں۔”جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ “ذرا یہ بھی سوچیں کہ اگر سامانِ جہیز شوہر کو ملنا ہوتا تو صورتحال کیا ہوتی؟ اگر یہی دعویٰ شوہر کی جانب سے دائر کیا جاتا کہ شادی ختم ہوگئی ہے، میرا جہیز واپس کرو، تو کیا تب بھی یہی رویہ ہوتا؟ کیا شادی ختم ہونے کی صورت میں جہیز واپس نہیں کیا جانا چاہیے؟”

عدالت کے ریمارکس کو خواتین کے حقوق اور سماجی رویّوں کے تناظر میں نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ درخواست پر مزید کارروائی بعد میں کی جائے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں